فتنہ دوہیماء: فکری کنفیوژن
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۱۱
فتنہ دوہیماء: فکری کنفیوژن
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث دورِ فتنہ کے بارے میں آئی ہے۔ یہ ایک لمبی حدیث ہے، اس کا ایک حصہ یہ ہے: ثم فتنة الدَّهيماء لا تدع أحداً من هذه الأمة إلا لطمته لطمة (سنن أبي داؤد، حدیث نمبر : 4244) یعنی آخری زمانے میں فتنہ دہیماء ظاہر ہوگا ۔ وہ اتنا زیادہ عام ہوگا کہ امت کا کوئی بھی شخص نہیں بچے گا جو اس فتنے کی زد میں نہ آجائے : It will hit everyone without any exception. اس حدیث رسول میں دُہیماء کالفظ استعمال ہوا ہے۔ دہیماء کے لیے مشہور عربی لغت لسان العرب میں یہ الفاظ آئے ہیں: الفتنة السوداء المظلمة (12/211)۔ دہیماء کی تصغیر مبالغہ کے لیے ہے، یعنی فتنہ دہیماء بہت زیادہ سیاہ اور سخت تاریکی پیدا کرنے والا فتنہ ہوگا۔ اس حدیث رسول کے مطابق، فتنہ دہیماء کا زمانہ مکمل تاریکی کا زمانہ (age of total darkness) ہوگا۔ تاریکی سے مراد فکری تاریکی (intellectual darkness) ہے۔ دوسرے الفاظ میں ، اس کا مطلب ہے - مکمل فکری کنفیوژن (utter intellectual confusion)۔
قانون فطرت کے مطابق، یہ دور اچانک نہیں آئے گا، بلکہ تدریجی عمل (gradual process) کے تحت آئے گا۔ یہ واقعہ خود امت مسلمہ کے اندر پیش آئے گا اور یہ اُس حالت کا ایک ظاہر ہو گا جس کو زوالِ امت کہا جاتا ہے۔ مذکورہ روایت کے الفاظ کے مطابق، فتنہ دھیماء کی یہ صورتِ حال اصلاً خود امت کے اندر پیش آئے گی ، نہ کہ امت کے باہر۔
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تم کو ایک ایسے دین بیضا پر چھوڑ رہا ہوں جس کی راتیں بھی دن کی طرح روشن ہیں: قد تركتم على البيضاء، ليلها كنهارها (مسند احمد، حدیث نمبر : 17142) ۔ مگر بعد کے زمانے میں امت کے اندر بہت زیادہ اختلاف (اختلافاً كثيراً) پیدا ہو جائے گا۔ اس اختلاف کثیر سے مراد ہی چیز
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues