ایک اجتماعی حکم
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۶
ایک اجتماعی حکم
قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے یہ حکم دیا گیا ہے: ﴿ولا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ﴾ (6:108) یعنی اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، ان کو سب وشتم نہ کرو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو سب وشتم کرنے لگیں گے۔ قرآن کی اس آیت میں ایک اہم اجتماعی اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اہل ایمان کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ دوسروں کے برے سلوک کی شکایت کریں، بلکہ انھیں یہ کرنا چاہئے کہ وہ شکایت کے اسباب کو اپنی طرف سے ختم کر دیں۔ ایسے معاملات میں اہل ایمان احتساب غیر کے بجائے احتساب خویش کا طریقہ اختیار کریں، وہ دوسروں کے خلاف احتجاج کرنے کے، بجائے اپنے حصے کی غلطی کو تلاش کریں، اور وہ اس کی اصلاح کی طرف متوجہ ہو جائیں۔
شکایت کوئی یک طرفہ رویہ نہیں۔ جب بھی کوئی شخص یا گروہ دوسرے کی شکایت کرتا ہے تو ایسی ہر شکایت کے پیچھے ہمیشہ کوئی ردعمل کا واقعہ ہوتا ہے۔ اس معاملہ میں قرآن نے یہ حکم دیا ہے کہ تم اپنی طرف کے عمل (action) سے بچو، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم فریق ثانی کے ردعمل (reaction) سے بچ جاؤ گے۔ قرآن کی اس ہدایت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب بھی تم کو کسی سے شکایت ہو تو ایسا مت کرو کہ تم فورا دوسرے کے خلاف شکایت کا ہنگامہ کھڑا کر دو۔ اس کے بجائے تم کو یہ کرنا چاہئے کہ خود اپنے اندر ان اسباب کو تلاش کرو، جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر فریق ثانی کی اس روش کا سبب بن رہے ہیں۔ اجتماعی زندگی میں اصلاح کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اپنے حصہ کی غلطی کو درست کرو۔ دوسرا فریق اپنے آپ اپنے حصہ کی غلطی کی اصلاح کر لے گا۔ اجتماعی زندگی میں ہر قابل شکایت بات کسی اشتعال کی بنا پر پیدا ہوتی ہے۔ ضرورت ہے کہ اجتماعی زندگی میں نگرانی کا یہ ماحول موجود ہو کہ کوئی فرد اشتعال انگیزی کی کوئی کارروائی نہ کرنے پائے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے کسی سماج میں امن کا ماحول قائم ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues