Al-Risala · January 2015 · page 37

غیر سیاسی مشن

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۷

غیر سیاسی مشن

قرآن کی سورہ الغاشیہ میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے یہ ہدایت دی گئی ہے: فَذَكِّرْ ۖ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ ۝ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ ۝ إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ ۝ فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ ۝ إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ۝ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ ۝ (88:21-26) یعنی پس تم یاد دہانی کرو، تم صرف یاد دہانی کرنے والے ہو- تم ان پر داروغہ نہیں۔ مگر جس نے روگردانی کی اور انکار کیا۔ تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا۔ ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے۔ پھر ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا۔

قرآن کی اس آیت کا خطاب صرف پیغمبر سے نہیں ہے، بلکہ اس کا خطاب ہر داعی سے ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت آخری حد تک ایک پرامن نصیحت کا نام ہے، نہ کہ حاکمانہ طور پر کسی نظریہ کو نافذ کرنے کا نام۔ اس حقیقت کو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور کے ایک عامل کے نام ایک خط میں اس طرح لکھا تھا: ان الله إنما بعث محمدا صلى الله عليه وسلم داعيا، ولم يبعثه جابیا (البداية والنهاية لابن كثير، 9/188) یعنی اللہ نے بے شک اپنے پیغمبر کو داعی بنا کر بھیجا ہے، اس نے پیغمبر کو ٹیکس وصول کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔

پیغمبر کا مشن، پر امن دعوت کا مشن ہے۔ پیغمبر کے مشن کا تعلق نہ سیاست سے ہے اور نہ حکومت سے۔ پیغمبر کا مشن یہ ہے کہ پر امن طریقہ کار کے ذریعہ لوگوں کو بتایا جائے کہ موجودہ دنیا میں ان کو کس قسم کی زندگی گزارنی چاہئے، جو ان کی آخرت کی زندگی کو کامیاب کرنے والی ہو۔ جس کے نتیجہ میں وہ دنیا میں اللہ کی مدد کے مستحق قرار پائیں، اور آخرت میں ان کو جنت کے باغوں میں داخل کیا جائے۔ جہاں وہ ابدی طور پر حزن اور خوف سے پاک زندگی گزاریں۔ پیغمبر کا مشن قرآن کے الفاظ میں انذار اور تبشیر کا مشن ہے، یعنی اللہ کی پکڑ سے بچانا اور اللہ کے انعام کی خوش خبری دینا۔ پیغمبر کا مشن اصلاً دنیا میں کوئی سیاسی نظام قائم کرنے کا مشن نہیں ہے۔ پیغمبر کا مشن افراد کو ایڈریس کرنے کا مشن ہے۔ پیغمبر کا مشن یہ ہے کہ ہر فرد اپنے آپ کو اللہ کی مرضی کے مطابق بنائے، تاکہ وہ ابدی طور پر اللہ کی رحمتوں کا مستحق قرار پائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page