Al-Risala · August 2015 · page 26

تربیت کا ٹیکنکل طریقہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۲۶

تربیت کا ٹیکنکل طریقہ

آج کل تربیت کے بہت سے طریقے نکلے ہیں۔ پانچ دن کا مدرسہ، روزانہ ایک آیت، چالیس دن کا چلہ، پندرہ روزہ تربیتی کورس، وغیرہ۔ ان طریقوں کو ایک لفظ میں ٹیکنکل طریقہ کہہ سکتے ہیں۔ یہ طریقے عوامی طور پر کافی مقبول ہیں۔ لیکن نتیجہ کے اعتبار سے وہ سب کے سب غیر مفید ہیں۔ ان تمام طریقوں میں ایک بات مشترک ہے۔ وہ یہ ہے کہ بظاہر دھوم کے با وجود ان طریقوں کے ذریعے کوئی انسان بن کر تیار نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی تربیت کبھی بھی مبنی بر روٹین عمل سے نہیں ہوتی۔ تربیت ہمیشہ ذہنی بیداری (intellectual awakening) کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ کسی ٹیکنکل طریقہ کو دہرانے سے۔

تربیت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تخلیقیت (creativity) پیدا کی جائے۔ مسلسل ذہنی خوراک کے ذریعے انسان کو ایسا بنایا جائے کہ وہ خود اپنا مربی بن جائے۔ وہ خود اپنا محاسبہ کرے۔ وہ اپنے اندر اصلاح کا عمل جاری کرے۔ وہ خود اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو دریافت کرے۔ وہ خود مسلسل طور پر اپنا نگراںبن جائے۔

پیشہ ورانہ تربیت (professional training) کسی دوسرے شخص کے ذریعے ممکن ہے، لیکن دینی تربیت ایک ایسا کام ہے جو ہر آدمی کو خود کرنا پڑتا ہے۔ ہر آدمی کو خود یہ جاننا پڑتا ہے کہ کس موقعے پر اس کو کیا سیکھنا ہے، کس موقعے سے اس کو کیا تربیتی غذا لینا ہے، کس موقعے پر اس کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تربیت ایک دوامی عمل ہے۔ ہر لمحہ اپنے ساتھ تربیت کا ایک موقع لے کر آتا ہے۔ ہر آدمی کو خود یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ تربیت کے اس موقعے کو پہچانے، اور اس کو اپنی اصلاح کے لیے استعمال کرے۔ تربیت ایک سیلف ٹریننگ (self-training) کا معاملہ ہے۔ اپنی تربیت آپ وہی شخص کر سکتا ہے، جس کے اندر دو صفت پیدا ہو جائے— محاسبہ اور تفکیر۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page