Al-Risala · August 2015 · page 25

شرح صدر کیا ہے

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۲۵

شرح صدر کیا ہے

شرح صدر کا مطلب ہے، سینہ کھول دینا۔ عربی میں کہا جاتا ہے: شرح الله صدره بقبول الخير فانشرح (اللہ نے اس کے سینے کو حق کی قبولیت کے لیے کھول دیا تو وہ کھل گیا)۔ یہ حق کے متلاشی (seeker) کا معاملہ ہے۔ حق کے متلاشی کو جب اللہ کی توفیق سے حق کی دریافت ہو جائے تو اس وقت اس کے دل کی جو مثبت کیفیت ہوتی ہے، اسی کو شرح صدر کہا گیا ہے۔

انسان فطری طور پر حق کا متلاشی (seeker of truth) ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ وہ اپنی اور کائنات کی تخلیق کے راز کو سمجھنا چاہتا ہے۔ اس کی یہ جستجو جب اس حد کو پہنچے کہ سچائی اس کے لیے ایک خود در یافت کرده حقیقت (self-discovered reality) بن جائے تو اس کے بعد فطری طور پر اس کو ایک ذہنی سکون (peace of mind) حاصل ہو جاتا ہے۔ اسی واقعہ کو شرح صدر سے تعبیر کیا گیا ہے۔

سچائی کو دریافت کرنا انسان کا سب سے بڑا کنسَرن (concern) ہے۔ سچائی کو دریافت کرنے سے پہلے انسان ایک حیوان کی مانند ہوتا ہے۔ سچائی کو دریافت کرنے کے بعد انسان حقیقی معنوں میں انسان بن جاتا ہے۔ سچائی کی دریافت یہ ہے کہ انسان کو اپنے تمام سوالات کے جواب مل جائیں۔ وہ اپنے وجود کی معنویت سے باخبر ہو جائے۔ وہ جان لے کہ حقیقت کے اعتبار سے اس کی منزل کیا ہے۔ وہ راستہ کون سا ہے، جس کو اختیار کر کے وہ اس مقام پر پہنچ سکتا ہے، جو اس کی حقیقی منزل ہے۔ شرح صدر آدمی کو یقین (conviction) عطا کرتا ہے۔ شرح صدر کے بعد آدمی کنفیوزن (confusion) سے باہر آ جاتا ہے۔ اس کی سوچ میں وضوح (clarity) پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ چیزوں کا صحیح تجزیہ (right analysis) کر سکے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ چیزوں کو صحیح زاویہ نظر (right angle) سے دیکھنے لگے۔ شرح صدر کے بعد آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے خالق کو دریافت کرلے، اور اسی کے ساتھ اپنے آپ کو بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page