Al-Risala · August 2015 · page 28

صبر واِعراض کا اصول

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۲۸

صفت نہ پائی جائے ۔ اس لئے سازش کے خلاف شکایت کرنا مکمل طور پر ایک بے فائدہ کام ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت پیدا کی جائے تا کہ سازش کرنے والوں کی سازش عملاً مؤثر نہ ہو سکے۔

قرآن کی تعلیمات کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کو یہ بتاتا ہے کہ انسان کے بارے میں خالق کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) کیا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اس تخلیقی منصوبہ کو جانے، اور اس کے مطابق اپنی سرگرمیوں کا نقشہ بنائے۔ کوئی فرد یا کوئی قوم اگر اس تخلیقی منصوبہ کو نظر انداز کرے اور خود اپنے ذہن کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنائے تو یقینی طور پر اس دنیا میں اس کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔ یہی حقیقت پسندی ہے، اور اس دنیا میں حقیقت پسندی ہی سب سے بڑا اصول ہے۔ قرآن میں انسان کی پیدائش کی حکمت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھے عمل والا ہے۔ اس حکمت ابتلا کی بنا پر، ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ جب انسان اپنی آزادی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے تو اس سے فطری طور پر دنیا میں چیلنج اور مسابقت (competition) کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

چیلنج اور مسابقت کا یہ ماحول لازماً دنیا میں رہے گا۔ اس بنا پر یہاں لازماً ایسا ہوگا کہ ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطلوب صورت حال (unwanted situation) کا سامنا پیش آئے گا۔ اس صورت حال کے خلاف شکایت کرنا بھی بے فائدہ ہے، اور اس سے لڑنا بھی بے فائدہ ۔ کامیابی کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی حکیمانہ تدبیر کے ساتھ اس کا سامنا کرے۔ خالق کے قائم کردہ نظام کے مطابق اس دنیا میں کامیابی کا یہی واحد اصول ہے۔

اسی حکیمانہ روش کا نام صبر و اعراض ہے۔ صبر و اعراض دانش مندانہ طریق زندگی کا دوسرا نام ہے۔ صبر و اعراض اپنی حقیقت کے اعتبار سے اقدام ہے، اگرچہ نادان لوگ اس کو پسپائی سمجھ لیتے ہیں۔ صبر و اعراض اعلیٰ انسانی اخلاق کا دوسرا نام ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page