Al-Risala · August 2015 · page 29

توحید اور عدل

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۲۹

توحید اور عدل

اسلام کے دو بنیادی اصول ہیں ۔ توحید اور عدل۔ توحید کا مطلب ہے خالق کو ہر اعتبار سے ایک ماننا۔ کسی بھی اعتبار سے کسی اور کو اس کا شریک (partner) نہ بنانا۔ عدل کا مطلب ہے معاملات میں انصاف (justice) کا طریقہ اختیار کرنا۔ کسی بھی عذر (excuse) کی بنا پر انصاف کے طریقے سے نہ ہٹنا۔ اس انصاف کا تعلق انسان کے قول سے بھی ہے، اور اس کے عمل سے بھی۔ توحید اور عدل دونوں لازم کے معنی میں ہیں، ان میں سے کوئی بھی متعدی کے معنی میں نہیں۔ یعنی دونوں کا تعلق فرد کے رویہ سے ہے۔ فرد سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کامل معنوں میں موحد بنے، اس کی آئیڈیالوجی مکمل طور پر توحید (oneness of God) پر مبنی ہو۔ عدل کا مطلب ہے ایک فرد کا انصاف پر قائم ہونا۔ اس کا قول منصفانہ قول ہو، اس کا عمل تمام تر انصاف پر مبنی ہو۔ توحید کا لفظ انسان کے عقیدہ (belief) کو بتاتا ہے، اور عدل کا لفظ انسان کے سماجی رویہ (social behaviour) کو۔ یہ دونوں الفاظ پیروی کے معنی میں ہیں، نہ کہ نفاذ کے معنی میں۔ جس طرح توحید ذاتی طور پر اختیار کرنے کی چیز ہے، وہ دوسروں کے اوپر نافذ (impose) کرنے کی چیز نہیں۔ یہی معاملہ عدل کا بھی ہے۔ عدل کا مطلب بھی یہی ہے کہ آدمی جن انسانوں کے درمیان رہتا ہے، ان کے ساتھ وہ ہمیشہ انصاف کا طریقہ اختیار کرے، وہ ہر حال میں نا انصافی سے بچے ۔

اسلامی مشن کا نشانہ فرد (individual) ہے، نہ کہ نظام (system)۔ اسلام کا مقصد انسان کو اسلا مائز کرنا ہے، نہ کہ سسٹم کو اسلا مائز کرنا۔ اس دنیا کے خالق نے انسان کو امتحان (test) کے لیے پیدا کیا ہے۔ ہر آدمی کا یہ امتحان ہے کہ وہ اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرتا ہے، صحیح طور پر یا غلط طور پر۔ اگر اسلام کی تعلیمات کو طاقت کے ذریعے بزور نافذ کیا جائے تو امتحان کا ماحول ختم ہو جائے گا۔ امتحان کا مقصد صرف اس وقت پورا ہوسکتا ہے، جب کہ لوگوں کو آزادی ہو، اور یہ دیکھا جا سکے کہ انھوں نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا یا غلط استعمال کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page