مدعو فرینڈلی روش
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۳۴
مدعو فرینڈلی روش
قرآن میں دعوت الی اللہ کے کام کو تجارت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ تجارت کا یہ معاملہ داعی اور مدعو کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ تشبیہ نہایت بامعنی ہے۔ تجارت کا اصول یہ ہے کہ تاجر اپنے گاہک کے ساتھ کسٹمر فرینڈلی (customer friendly) روش اختیار کرے۔ ٹھیک یہی اصول کامیاب دعوت الی اللہ کا بھی ہے۔ حقیقی داعی وہ ہے جو اپنے مدعو کے ساتھ مدعو فرینڈلی روش اختیار کرے۔ دعوت صرف اعلان (announcement) نہیں ہے۔ دعوت ایک خیر خواہانہ عمل کا نام ہے۔ دعوت کی کامیابی کے لئے لازمی طور پر ضروری ہے کہ داعی اپنے مدعو کے لئے ایک طرفہ طور پر خیر خواہ ہو۔ وہ شکایت کے اسباب کے باوجود کامل طور پر بے شکایت ہو جائے۔
دعوت الی اللہ اہل ایمان کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ دعوت الی اللہ گویا خاتم النبیین کی جانشینی ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام یہ بغیر کسی مومن کے لیے پیغمبر کا امتی ہونا مشتبہ ہو جاتا ہے۔ دعوت الی اللہ کا مطلب پیغمبر کی غیر موجودگی میں پیغمبر کی ذمہ داری کو نیابتاً ادا کرنا ہے۔ یہ بعد کی انسانی نسلوں کے لیے پیغمبرانہ ذمے داری کی ادائیگی ہے۔ یہ گویا پیغمبر کے بعد پیغمبر کی جانشینی ہے۔ پیغمبر نے دعوت کا کام کامل نصح (خیر خواہی) کے ساتھ انجام دیا۔ یہی بعد کے زمانے کے داعیوں کو کرنا ہے۔ دعوت کا کام درست طور پر اسی وقت انجام دیا جا سکتا ہے، جب کہ داعی کے اندر مدعو کے لیے خیر خواہی کی اسپرٹ پائی جاتی ہو۔ داعی کے اندر اگر مدعو کے لیے خیر خواہی موجود نہ ہو تو وہ مدعو کی نظر میں ایک پروفیشن بن جائے گا۔ اور پروفیشن کے طور پر کیا ہوا کام کبھی مدعو کے لیے موثر (effective) نہیں ہو سکتا۔ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ داعی کامل طور پر بے شکایت ہو۔ اس کے دل میں مدعو کے لیے منفی جذبات نہ پائے جاتے ہوں۔ مدعو کی طرف سے اگر کوئی تکلیف یا دل آزاری کا معاملہ پیش آئے تب بھی داعی کو چاہیے کہ وہ یک طرفہ طور پر مدعو کے لیے اپنی خیر خواہی کو برقرار رکھے۔ داعی کو اپنے دعوتی عمل کا اجر اللہ سے لینا ہے نہ کہ انسان سے۔ داعی کے اندر اگر یہ ذہن موجود ہو تو مدعو کے بارے میں اس کی خیر خواہی کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues