مدعو فرینڈلی روش
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۳۵
فکر کی تشکیل ایک شاعر نے لکھا:
ہے داد کے قابل میری تجرید تصور کرتا ہوں تجھے غیر کی محفل سے جُدا د تجرید تصور کا مطلب ہے فکری یکسوئی (detached thinking)۔ یعنی غیر متعلق باتوں سے اپنے کو الگ کر کے صرف مطلوب بات پر دھیان دینا۔ یہ انسان کی ایک امتیازی صفت ہے۔ یہ صفت جس طرح دنیا کے معاملے میں مطلوب ہے، اسی طرح وہ دین کے معاملے میں بھی صحت فکر کے لیے مطلوب ہے۔ جو شخص اس صفت کا حامل ہو، اس کے اندر وہ چیز پائی جائے گی جس کو صحت فکر کہا جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ معاشرہ میں جس بات کا چر چا ہو، لوگ اسی کو لے کر اظہارِ رائے کرنے لگتے ہیں۔ اس سے لوگوں کے اندر متاثر ذہن بنتا ہے۔ مثال کے طور پر اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں غزوات پیش آئے۔ اس لیے معاشرے میں غزوات کا چرچا ہونے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں سیرت پر جو کتابیں لکھی گئیں وہ سب غزواتی پیٹرن پر لکھی گئیں۔ اس کے بعد جب ماس کنورژن (mass conversion) ہوا تو لوگ دینی مسائل جاننے کی کوشش کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاشرے میں مسائل کا چر چا کرنے لگا۔ چناں چہ فقہ کی کتابیں مسائل کے پیٹرن میں لکھی جانے لگیں۔ اس کے بعد سیاسی حکومتوں کا دور شروع ہوا تو معاشرے میں سیاست کا چرچا ہونے لگا۔ اب تاریخ کی کتابیں سیاسی پیٹرن پر لکھی جانے لگیں۔ اس کے بعد جب نو آبادیات کا دور آیا تو مسلمانوں کے اندر قابض طاقتوں کے خلاف چر چا ہونے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب جو کتابیں لکھی گئیں، وہ سب ردِ عمل یا منفی سوچ کے پیٹرن پر لکھی گئیں۔ موجودہ زمانہ میڈیا کا زمانہ ہے۔ میڈیا یا ہاٹ نیوز (hot news) کی انڈسٹری ہے۔ اس لیے اب ہر مجلس میں اور ہر اجتماع میں یہی پیٹرن رائج ہو گیا ہے۔ ایسی حالت میں کسی مومن کے اندر صحیح اسلامی فکر کا بننا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ اس کے اندر تجریدی تصور کی صلاحیت ہو۔ وہ گردو پیش کے چر چا سے اوپر اٹھ کر خود اپنی سوچ کے تحت اپنی رائے بنائے۔ وہ اپنے اندر، غیر متاثر ذہن کی تشکیل کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues