Al-Risala · August 2015 · page 39

Heaven and Hell are states, not localities.

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۳۹

ہو چکا ہے۔ اس لیے قرآن کی اس آیت کی تفسیر اس طرح کی جائے گی کہ قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کرو اور اس سے سبق حاصل کرو۔ اس مطالعے سے معلوم ہوگا کہ ہر قوم عروج کے بعد زوال کا شکار ہوتی ہے، یہ تاریخی ظاہرۃ اس بات کا ثبوت ہے کہ تاریخ کو کنٹرول کرنے والا انسان نہیں، بلکہ ایک اور بالا تر عامل ہے جو انسانی تاریخ کو کنٹرول کر رہا ہے۔

2۔ اسی طرح قرآن کی ایک اور آیت یہ ہے: وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (16:8) یعنی اور اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے بھی اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے۔ قرآن کی اس آیت میں جو اصول اختیار کیا گیا ہے، اس کا ایک مفہوم وہ ہے جو آیت کے زمانہ نزول کے اعتبار سے ہے۔ اسی کے ساتھ اس آیت کا ایک وسیع تر مفہوم بھی ہے۔ اس وسیع تر مفہوم کی روشنی میں آیت کا مطالعہ کیا جائے تو قرآن کی اس آیت کے الفاظ موجودہ حالات کے اعتبار سے پوری طرح قابلِ انطبا ق (applicable) ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ کہ آیت میں خیل، بغال، حمیر کے الفاظ علامتی طور پر قدیم زمانے کے ورلڈ آف نیچر (world of nature) کو بتاتے ہیں۔ اسی طرح يخلق مالا تعلمون کے الفاظ بعد کے زمانے میں ظہور میں آنے والے ورلڈ آف ٹکنالوجی (world of technology) کو بتا رہے ہیں۔

3۔ موجودہ زمانہ میں جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان میں متفقہ طور پر، سب سے بڑا مسئلہ وہ ہے جس کو ماحولیاتی مسئلہ (ecological problem) کہا جاتا ہے۔ بے شمار دماغ اس مسئلہ پر کام کر رہے ہیں۔ مگر ابھی تک اس کا حل در یافت نہ ہو سکا ۔ قرآن میں اس سلسلہ میں ایک آیت موجود ہے جو بتاتی ہے کہ اس معاملہ میں صحیح طرز فکر (right way of thinking) کیا ہے۔ قرآن کی سورہ الروم میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (30:41)۔ اس آیت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دورِ صنعت کے اس ظاہرۃ کا ذکر ہے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page