Heaven and Hell are states, not localities.
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۳۸
ہے۔ ہر ایک کا جواب یہ تھا کہ ہم کو اس میں کنفیوزن کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔ مصنف نے اپنے اس مقالے میں کہا ہے کہ آج ہم کو تخلیقِ علم (knowledge creation) کی ضرورت ہے۔ لیکن پورے مقالے میں انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اُن کے نزدیک تخلیقِ علم کی تعریف (definition) کیا ہے۔ قاری پورے مقالے کو اس طرح پڑھتا ہے کہ اس میں ’’تخلیقِ علم‘‘ کا لفظ تو بار بار استعمال ہوا ہے، لیکن قاری کو نہیں معلوم کہ اس اصطلاح کا واقعی مفہوم کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیقِ علم کوئی معروف اصطلاح نہیں۔ جاپان کے ایک شخص نے غالباً پہلی بار تخلیقِ علم کی اصطلاح وضع کی ۔ وہ اس کو کمپنی کے معاملات کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا، لیکن خود اس جاپانی شخص کے ذہن میں بظاہر اس اصطلاح کا کوئی واضح تصور موجود نہ تھا۔ چنانچہ یہ اصطلاح اپنے عدم وضوع کی بنا پر عمومی طور پر مقبول نہ ہوسکی۔ اس موضوع پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی جدید وضاحت کے لیے جو کام مطلوب ہے، وہ نہ ’’ری کانسٹرکشن‘‘ کا کام ہے اور نہ ’’تخلیقِ علم‘‘ کا کام۔ یہ وہی کام ہے جس کے لیے حدیث میں اجتہاد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جدید ذہن کو ایڈریس کرنے کے لیے آج جس چیز کی ضرورت ہے، وہ یہی اجتہاد ہے، نہ کہ ری کانسٹرکشن اور تخلیقِ علم۔ اجتہاد کیا ہے۔ اجتہاد دراصل تطبیقِ نو (reapplication) کا دوسرا نام ہے۔ قرآن اور حدیث میں جو باتیں کہی گئی ہیں، وہ اپنے اسلوب کے اعتبار سے زمانی ہیں، لیکن تطبیق کے اعتبار سے وہ ابدی ہیں۔ اس حقیقت کو دریافت کرنے کا نام اجتہاد ہے۔ اس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں قرآن سے کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں:
1۔ قرآن کی سورہ العنکبوت میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (6:11) قرآن کی اس آیت میں ’’سیر فی الأرض‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ آیت ساتویں صدی کے نصف اول میں اتری، جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ نہیں آیا تھا۔ اسی طرح اس وقت قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ کے بارے میں کتابیں مرتب نہیں ہوئی تھیں۔ اب یہ سب کچھ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues