اجتہاد ایک ضرورت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۴۱
کی اصلاح اور سماجی نظام (social system) کی تعمیر کے درمیان فرق کو ملحوظ نہ رکھنا۔ مسائل دنیا اور مسائل آخرت کے تقاضوں کے درمیان جونوعی فرق ہے، اس کو سمجھے بغیر اس موضوع پر اظہارِ خیال کرنا۔ طبیعیاتی سائنس کے موضوع اور انسانیات (humanities) کے موضوع کے درمیان جو بنیادی فرق ہے اس سے گہری واقفیت کے بغیر ان موضوعات پر لکھنا اور بولنا، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ فرقان (principle of differentiation) کو نہ جانتے ہوں ان کو صرف معلوماتی موضوع پر لکھنا اور بولنا چاہئے۔ ان کو ہرگز تفکیری موضوع پر کلام نہیں کرنا چاہئے۔ ایسا کر کے وہ اپنے قاری کو صرف کنفیوزن دیں گے وہ اپنے قاری کو واضح رہنمائی دینے سے قاصر رہیں گے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ مسلم دانشور کا مسئلہ بھی وہی ہے جو ان سے پہلے ڈاکٹر محمد اقبال کا مسئلہ تھا۔ دونوں ایک ہی مسئلہ کا شکار ہوئے۔ یعنی اپنے خود ساختہ ماڈل کی بنا پر مسئلہ کو غلط رخ (wrong angle) سے دیکھنا۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے انسان ساز فلسفیانہ ماڈل کو لے کر اسلام کو سمجھنا چاہا جو اصلاً فطرت خداوندی پر مبنی تھا۔ اس عدم مطابقت کی بنا پر ڈاکٹر محمد اقبال اس مسئلہ کی صحیح تشریح و تعبیر کرنے میں ناکام رہے۔
مذکورہ مسلم دانشور کا کیس یہ ہے کہ وہ اصلاً علم اقتصادیات (economics) کے آدمی ہیں۔ اقتصادیات کا علم انسانی زندگی کے نظامی پہلو (infrastructural aspect) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ دوبارہ ایک انسان ساز علم ہے۔ اس بنا پر مذکورہ مسلم دانشور کا ذہن مبنی بر نظام ذہن بن گیا۔ وہ اسلام کی تعبیر اپنے نظامی ماڈل کی روشنی میں کرنے لگے۔ جب کہ اسلام کا ماڈل مختلف تھا۔ علم الاقتصاد کے تحت جو ماڈل بنتا ہے، وہ مبنی بر نظام ماڈل (system-based model) ہے، جب کہ اسلام ایک مبنی بر فرد مذہب ہے۔ اسلام کا ماڈل مبنی بر فرد ماڈل (individual-based model) ہے۔ اس عدم مطابقت کی بنا پر مذکورہ مسلم دانشور اس مسئلہ کی صحیح تعبیر وتشریح میں ناکام رہے۔ اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ مذکورہ مسلم دانشور نے لکھا ہے کہ نیورو سائنس (neuroscience) کے نئے ابھرتے ہوئے ماہرین شاید اس معاملہ میں ہماری مدد کر سکیں ۔ مگر یہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues