Al-Risala · August 2015 · page 42

اجتہاد ایک ضرورت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۴۲

ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کا غ متعلق (irrelevant) نہ ہو۔ نئی سائنس کا نہرو ہو کہ آئنسٹائن، با ریف نیست کلا ہی کے باسی ں یاسر کا (explanation) ے ؟ یاسر کا (explanation) ے ؟ انسان کے اعصابی نظام کے سائنسی مطالعہ کا نام ہے:

"Neuroscience is the scientific study of the nervous system"

زیدہ کے مسئلہ کا تعلق مسائل حیات کا توجیہ (explanation) سے ۔

پیروں پاس اور ایک معلوم زیر بحث مسئلہ کا تعلق مسائل حیات کی توجیہہ (explanation) سے ہے۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ سائنس کا کام توجیہہ کرنا نہیں ہے بلکہ صرف فطرت کے عمل کو دریافت کرنا ہے : Neuroscience deals with the functioning of the mind. زیر بحث مسئلہ سے انسانی ذہن کا تعلق واضح ہے لیکن یہاں جو مسئلہ ہے وہ مائنڈ کے فکری انطباق کا مسئلہ ہے نہ یہ کہ ذہن فزیکل معنوں میں کس طرح عمل کرتا ہے۔ مذکورہ مسلم دانشور کے مقالہ میں کنفیوزن کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تعلیم کے زمانے میں موصوف کا سبجیکٹ معاشیات (economics) تھا۔ انھوں نے اسی سبجیکٹ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اپنی پوری زندگی اسی سبجیکٹ کا مطالعہ کرتے رہے۔ جیسا کہ معلوم ہے معاشیات ایک ایسا سبجیکٹ ہے جس میں نظام (system) کے پہلو سے زندگی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ ہوا کہ موصوف کے ذہن میں نظامی ماڈل (system-based model) بن گیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر نظامی ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھنے لگے۔

اس کے بعد انھوں نے اپنے اسی ذاتی شاکلہ کی بنیاد پر اسلام کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے چاہا کہ وہ اسلام کو ایک نظامی ماڈل (system-based model) میں ڈھال دیں۔ مگر اصل حقیقت یہ تھی کہ اسلام ایک مبنی بر فرد ماڈل تھا، نہ کہ مبنی بر نظام ماڈل۔ اس فرق کو نہ جاننے کی بنا پر ان کے یہ س ہے، یہ ش ہے، یہ ص ہے، یہ ظ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بڑا کنفیوژن پیدا ہوگیا۔ افکار میں کنفیوژن پیدا ہوگیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page