توبہ کا طریقہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۹
توبہ کا طریقہ
انسان کی تخلیق اس طرح ہوئی ہے کہ وہ بار بار غلطی کرتا ہے۔ خدائی شریعت میں اس کا حل تو بہ ہے، یعنی غلطی کرنے کے بعد پلٹنا اور دوبارہ اپنے کو اصلاح یافتہ بنانا۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے : إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ۖ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا (4:17) یعنی تو بہ، جس کو قبول کرنا اللہ کے ذمہ ہے، وہ ان لوگوں کی ہے جو بری حرکت نادانی سے کر بیٹھتے ہیں۔ پھر جلد ہی تو بہ کر لیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کی تو بہ اللہ قبول کرتا ہے اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق تو بہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ تو بہ قریب (repentance without delay) ہو۔ جو تو بہ دیر میں کی جائے، وہ تو بہ کا صحیح طریقہ نہیں۔ تو بہ قریب فطرت کے نظام کے مطابق ہے، جب کہ تو بہ بعید فطرت کے نظام کے مطابق نہیں۔ خالق نے انسان کے اندر ایک صلاحیت رکھی ہے، اس کو ضمیر (conscience) کہا جاتا ہے۔ آدمی جب غلطی کرتا ہے تو اس کے فوراً بعد اس کا ضمیر متحرک ہو جاتا ہے۔ آدمی کو شدید طور پر اپنی غلطی کا احساس ہونے لگتا ہے، مگر یہ احساس ہمیشہ یکساں طور پر باقی نہیں رہتا۔ شروع میں یہ احساس نہایت شدید ہوتا ہے، پھر دھیرے دھیرے وہ کمزور ہونے لگتا ہے، یہاں تک کہ اگر تو بہ میں زیادہ دیر کی جائے تو ندامت کا احساس عملاً ختم ہو جائے گا۔ آدمی کے اندر اصلاح کا طاقتور محرک باقی نہ رہے گا۔ جاننے کے اعتبار سے وہ اپنی غلطی کو جانے گا، لیکن اس ضرورت کا احساس اس کے اندر باقی نہ رہے گا کہ وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرے۔
پہلے اگر اس کا کیس زندہ ضمیر کا تھا تو بعد کو اس کا کیس مردہ ضمیر کا کیس بن جائے گا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ فطرت کے اس نظام کو سمجھے، وہ غلطی کے بعد فوراً کھلی تو بہ کرے۔ اگر اس نے تو بہ میں دیر کی تو تو بہ کا احساس ہی اس کے اندر باقی نہ رہے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues