Al-Risala · January 2015 · page 38

کامیاب تدبیر کار

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۸

کامیاب تدبیر کار

کسی مقصد کے حصول کے لیے قرآن کا بتایا ہوا طریقہ کیا ہے، یہ بات قرآن کی سورہ النحل کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے: قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَأَتَى اللَّهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ (16:26) یعنی ان سے پہلے والوں نے بھی تدبیریں کیں۔ پھر اللہ ان کی عمارت پر بنیادوں سے آیا، پس چھت اوپر سے ان کے اوپر گرپڑی اور ان پر عذاب وہاں سے آ گیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا۔ Those who were before them did also plan, but Allah came upon their structure at the very foundations, so that the roof fell down upon them from above them; and the punishment came upon from where they knew not. اس آیت میں تمثیل کے اسلوب میں بتایا گیا ہے کہ مقصد کے حصول کا مؤثر طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ کہ عمارت کے ظاہری ڈھانچے کو نشانہ نہ بنایا جائے، بلکہ اس کی بنیاد پر عمل کیا جائے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610ء میں مکہ میں توحید کا مشن شروع کیا۔ اس وقت کعبہ میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے، مگر پیغمبر اسلام نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی پر کوئی احتجاج نہیں کیا، اور نہ بتوں کو توڑنے کی کوشش کی۔

آپ نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف یہ کیا کہ پرامن طور پر نظریہ توحید کی اشاعت شروع کر دی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ عمارت کو مظاہر شرک سے پاک کرنے کے بجائے دلوں کو شرک سے پاک کرنا۔ جس کو قرآن میں تطہیر ثیاب (74:4) کہا گیا ہے۔ یہ تدبیر کامیاب ہوئی اور 20 سال سے بھی کم مدت میں پرامن طور پر کعبہ بتوں سے پاک ہو گیا— یہی اصول کسی معاملہ میں حقیقی کامیابی حاصل کرنے کا فطری طریقہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page