Al-Risala · September 2015 · page 15

نصیحت کا صحیح طریقہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۵

نصیحت کا صحیح طریقہ

ایک مسلم مجلہ (اپریل 2015) میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان تھا: عالم اسلام انتہا پسندی کے نرغے میں۔ اس مضمون میں دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی گئی تھی کہ مذہب کے معاملے میں وہ انتہا پسندی (extremism) کو چھوڑ دیں۔ جس نے ماضی میں بھی مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے، اور آج بھی اس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصانات ہورہے ہیں۔ ایک طرف مجلّے میں مسلمانوں کو یہ نصیحت کی گئی تھی، دوسری طرف اسی مجلہ میں ایک اور مضمون کے تحت درج ہے: گستاخانِ یورپ گا ہے گا ہے کائنات کی سب سے عظیم و افضل ہستی کی شان اقدس میں گستاخی کی جسارت کر کے دنیا میں سب سے زیادہ بسنے والے مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہیں اور پھر اس کو آزادی اظہار رائے کے نام سے جاری رکھنے پر اصرار بھی کرتے ہیں۔

موجودہ زمانے کے علماء اور رہنماؤں کا عام مزاج یہی ہے۔ ایک طرف وہ بظاہر مسلمانوں کو اسلام کے نام پر امن پسندی کی تلقین کریں گے، دوسری طرف وہ یہ کریں گے کہ جدید دور کے تقاضے کے تحت کوئی شخص اگر اسلام کے موضوع پر کوئی اختلافی اظہار رائے کرے تو اس کو " پیغمبر اقدس" کی شان میں ناروا گستاخی کہہ کر مسلمانوں کو اپنے مذہب کے معاملے بے حد حساس (sensitive) بنائیں گے۔ حالاں کہ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ دنیا میں خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہر انسان کو آزادی حاصل ہے۔ اس لیے اگر آپ مسلمانوں کو امن پسند بنانا چاہتے ہیں تو ان کو حساسیت کی خوراک دینا چھوڑ دیجیے، اور اگر آپ حساسیت کی خوراک دینا نہیں چھوڑ سکتے تو مسلمانوں کو امن پسندی کی تلقین بھی مت کیجیے۔ کیوں کہ امن کا ماحول ہمیشہ صبر و تحمل کی قیمت ادا کرنے کے بعد قائم ہوتا ہے۔ جو لوگ اختلافی معاملات میں صبر و تحمل کی روش اختیار نہ کرسکیں، وہ اگر امن پسندی کی بات کہتے ہیں تو وہ قرآن کے الفاظ میں، ایک ایسے عمل کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں، جس کو انھوں نے کیا ہی نہیں (3:188)۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues

Printed page