نصیحت کا صحیح طریقہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۶
یہ یک دو طرفہ رویہ ہے۔ اس دوطرفہ رویہ کے بارے میں قدیم یہود کو تنبیہ کرتے ہوئے قرآن میں یہ اعلان کیا گیا تھا : کیا تم کتاب الہی کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک حصے کا انکار کرتے ہو _(2:85)
قرآن کا یہ اعلان موجودہ زمانے کے مسلم علماء اور رہنماؤں پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ وہ ایک طرف اسلام کے نام پر مسلمانوں کو امن کی تلقین کریں گے، اسی کے ساتھ وہ دوسری قوموں کی زیادتیوں کا مبالغہ آمیز تذکرہ کر کے مسلمانوں کو مسلسل طور پر مشتعل کریں گے۔ اور جب اس کا منفی نتیجہ سامنے آئے گا تو وہ کہیں گے کہ ایسا دوسری قوموں کی سازش کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ یہ دوہرا روش قرآن کے مطابق لوگوں کو خدا کی پکڑ کا مستحق بناتی ہے، نہ کہ خدا کے انعام کا۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر ایک قوم پسند گروہ بن گئے ہیں۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق امت مسلمہ ایک داعی گروہ کا نام ہے لیکن دورِ زوال کے نتیجے میں موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا مزاج یہ بن گیا ہے میری قوم، خواہ صحیح ہو یا غلط : my community, right or wrong مسلمانوں کے اندر اگر داعیانہ ذہن موجود ہو تو وہ دوسری قوموں کو اپنا مدعو سمجھیں گے، نہ کہ حریف اور رقیب۔ وہ یہ جانیں گے کہ مدعو قوم کے مقابلے میں داعی کی روش رد عمل پر مبنی نہیں ہوتی، بلکہ ایک طرفہ صبر پر مبنی ہوتی ہے۔ داعی اگر مدعو کے مقابلے میں ردعمل کا طریقہ اختیار کرے تو قرآن کے الفاظ میں وہ رجز (74:5) کا طریقہ ہوگا، یعنی گندگی کا طریقہ (dirty practice)۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اظہار اختلاف کو بطورِ خود رسول کی شان میں گستاخی کا عنوان دے رکھا ہے، یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔ مسلمانوں کے اندر اگر مثبت ذہن ہو تو وہ اظہارِ اختلاف کو تبادلہ خیال (discussion) کا موضوع بنائیں گے۔ وہ ایسے لوگوں کے لیے مثبت انداز میں لٹریچر تیار کریں گے۔ وہ اظہارِ اختلاف کو دعوت کے مواقع میں تبدیل کر دیں گے۔ یہ دنیا اس کے لیے ہے جو منفی تجربے کو مثبت فکر میں تبدیل کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues