دورِ فتنہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۰
دورِ فتنہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور پیشین گوئی یہ فرمایا تھا کہ بعد کے زمانے میں امت میں فتنه (اختلاف و جنگ) کا دور آئے گا۔ اس وقت مخلص اہل ایمان کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: يوشك أن يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال ومواقع القطر، يفر بدينه من الفتن (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7088)۔ یعنی قریب ہے کہ وہ وقت آئے جب کہ مومن کا سب سے اچھا مال بکریاں ہوں جن کو لے کر وہ پہاڑوں کے اوپر چلا جائے، اور گوشہ کے مقامات میں چلا جائے ۔ اور وہاں اپنے کو فتنے سے بچالے۔ اس حدیث میں غنم کا لفظ علامتی طور پر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب امت میں اختلاف بڑھ جائے، اور لوگوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہو جائے تو سچے صاحبِ ایمان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے لیے کوئی ایسا گوشہ حیات تلاش کرلے، جہاں وہ اختلاف و ٹکراؤ سے دور رہ کر زندگی گزارے اور اسی حال میں مرجائے۔
اختلاف اگر مثبت اختلاف کے معنی میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن جب اختلاف کی صورت یہ ہو کہ لوگ ایک دوسرے کی نیت پر حملہ کرنے لگیں، اس کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہو جائے، حتیٰ کہ جنگ وقتال کی نوبت آجائے تو بلاشبہ وہ برا ہے۔ اس وقت کسی شخص کے لیے نجات کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو باہمی ٹکراؤ سے الگ تھلگ کرلے، وہ ذاتی اصلاح کے دائرے میں اپنے کو سمیٹ لے۔
حدیث میں آیا ہے: اختلاف امتي رحمة (المقاصد الحسنۃ:39)۔ اس اختلاف سے وہ اختلاف مراد ہے، جو خیر خواہانہ جذبے کے ساتھ تبادلۂ خیال (discussion) کے ہم معنی ہو۔ لیکن وہ اختلاف جو مبنی بر عناد ہو، جس کا مقصد دوسرے کو نیچا دکھانا ہو، جس میں الزام تراشی کی زبان استعمال کی جائے، ایسا اختلاف بلا شبہ گناہ ہے اور وہ قابل ترک ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues