دین میں استقامت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۹
دین میں استقامت
قرآن کی سورہ نمبر 3 میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيِّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ (آل عمران: 146) اور کتنے نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے قتال کیا۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں، ان سے نہ وہ پست ہمت ہوئے، نہ انھوں نے کمزوری دکھائی۔ اور نہ وہ دبے۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
قرآن میں کہیں بھی پیغمبر اسلام کے علاوہ کسی اور نبی کے قتال کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے یہاں قتال کو لفظی معنی میں لینا درست نہ ہوگا۔ ہر زبان میں یہ اسلوب ہے کہ شدید جدوجہد کے لیے جنگ کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔ اسی طرح عربی زبان میں بھی۔
مشہور عربی لغت لسان العرب میں قرآن وحدیث سے متعدد مثالیں پیش کرنے کے بعد بتایا ہے کہ قتال ہمیشہ جنگ کے معنی میں نہیں آتا (وليس كل قتال بمعنى القتل) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو لسان العرب، طبعہ بیروت 11/549۔
مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان کے اوپر جو مصیبتیں پڑیں، ان پر وہ نہ وہن میں مبتلا ہوئے، نہ ضعف میں اور نہ استکانت میں۔ یہ تینوں الفاظ تقریباً ہم معنی ہیں۔ یعنی انھوں نے مصیبت کے وقت کمزوری نہیں دکھائی۔ زبان کا یہ اسلوب ہے کہ تاکید کے لیے ہم معنی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہنا کہ صبر وتحمل اور برداشت کا طریقہ اختیار کرو۔ اللہ کی پسند والی زندگی اختیار کرنا ہمیشہ طرح طرح کے مسائل کا سبب بنتا ہے۔ یہ مسائل کبھی آدمی کو پست ہمت بنا دیتے ہیں۔ ایسے موقعے پر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو پست ہمتی سے بچائے، اور اس کا سب سے زیادہ مؤثر طریقہ یہ ہے کہ وہ مسائل کو اللہ کے خانے میں ڈال دے، اور دعاؤں کے سائے میں اپنی زندگی گزارتا رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues