Al-Risala · September 2015 · page 30

اجتہاد کا معاملہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۰

اجتہاد کا معاملہ

اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ حالات بدلنے کے بعد ابتدائی حکم کی نئی تطبیق (new application) تلاش کی جائے۔ مثلاً جدید طرز کے صنعتی موزہ (socks) کے وجود میں آنے کے بعد اس پر قدیم طرز کے جراب کے حکم کو منطبق کرنا۔

اجتہاد صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔ لیکن اس اندیشہ کی بنا پر کبھی اجتہاد کے عمل کو روکا نہیں جائے گا۔ صرف یہ کیا جائے گا کہ اجتہاد کے لئے اخلاص نیت کی شرط پر زور دیا جائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی مومن اجتہاد کرے اور اس کا اجتہاد درست ہو تو اس پر اس کو دو ہر اثواب ملے گا۔ اور اگر وہ اخلاص نیت کے باوجود اجتہاد میں غلطی کر جائے تو اس کو اس کے اجتہاد پر ایک ثواب ملے گا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کے معاملہ میں ہمیشہ غلطی کا امکان رہتا ہے حتیٰ کہ بڑے بڑے اہل ایمان نے بھی غلطیاں کی ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ جب اس پر اجتہاد کی غلطی واضح ہو جائے تو وہ کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور وہ اپنی رائے کو درست کرلے۔ اجتہاد ایک تعمیری عمل ہے۔ اجتہاد سے لوگوں کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب اجتہاد کا عمل رک جائے تو یقینی طور پر لوگوں کے اندر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا ہو جائے گا، اور ذہنی جمود بلاشبہ اسلام میں ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ جب کوئی آدمی اخلاص نیت کے ساتھ اجتہاد کرے تو فطری طور پر ایسا ہوگا کہ وہ معاملہ پر گہرائی کے ساتھ غور کرے گا، وہ سنجیدگی کے ساتھ اس کا جائزہ لے گا۔ وہ اس موضوع پر کتابوں کا مطالعہ کرے گا۔ وہ اہل علم سے اس موضوع پر تبادلہ خیال کرے گا۔ یہ تمام چیزیں اخلاص نیت میں شامل ہیں۔ ان چیزوں کا ہونا اخلاص نیت کا ثبوت ہے اور ان چیزوں کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے اندر اخلاص نیت موجود نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو حدیث میں اس طرح بتائی گئی ہے کہ عمل کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues

Printed page