Al-Risala · September 2015 · page 31

قتل سب سے بڑی برائی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۱

قتل سب سے بڑی برائی

قتل کیا ہے۔ قتل یہ ہے کہ کسی زندہ انسان پر حملہ کرکے اس کا خاتمہ کر دیا جائے۔ یہ معاملہ ایک فرد کے ساتھ کیا جائے تو اس کو قتل کہا جاتا ہے، اور یہی معاملہ جب زیادہ بڑے پیمانے پر کیا جائے تو وہ جنگ ہے۔ قتل ہو یا جنگ، وہ ہر حال میں برائی کے افعال ہیں۔ کسی انسان کو مارنا، ایک ایسا فعل ہے، جو اس قابل ہے کہ مارنے والے کو سب سے زیادہ سخت سزا دی جائے۔

ہر انسان خدا کی تخلیق ہے۔ ہر انسان کو اس کے خالق نے اس لیے پیدا کیا ہے تا کہ وہ دنیا میں آزادی کے ساتھ زندگی گزارے اور خالق نے اس کو جس امکان (potential) کے ساتھ پیدا کیا ہے اس کو وہ اپنی محنت سے واقعہ (actual) بنائے ۔

حقیقت یہ ہے ہر انسان خالق کا ایک منصوبہ (plan) ہے۔ ایسی حالت میں انسان کو قتل کرنا، گویا خالق کے منصوبے کو قتل کرنا ہے۔ وہ خالق کے منصوبے کو ناکام بنانے کے ہم معنی ہے۔ جنگ بظاہر انسان کے خلاف ہوتی ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہر جنگ خالق کے خلاف جنگ ہے۔

جنگ کا آغاز نفرت سے ہوتا ہے۔ نفرت بڑھ کر تشدد بن جاتی ہے۔ تشدد جب زیادہ بڑے پیمانے پر کیا جائے، اسی کا نام جنگ ہے۔ تشدد کلچر اپنے آغاز میں بھی غلط ہے، اور اپنے انجام میں بھی غلط۔ کوئی بھی منطق (logic) تشدد اور خوں ریزی کو ہرگز جائز ثابت کرنے والی نہیں۔ ایک درخت زمین سے نکلے اور ہری بھری شاخوں کے ساتھ پروان چڑھنے لگے تو وہ خالق کے منصوبے کا ایک جز ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایسے ایک پودے یا درخت کو کاٹ دے تو اس نے بلاشبہ ایک ناقابل معافی جرم کیا، اس نے ایک تخلیقی منصوبے کو پورا ہونے سے پہلے ختم کر دیا۔ انسان بھی خالق کا ایک زندہ درخت ہے۔ انسان کے لیے خالق کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ زمین میں پھیلے یہاں تک کہ وہ باغ بن جائے۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کے باغ پر ہتھیار چلاتا ہے،

‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues

Printed page