Al-Risala · September 2015 · page 40

انتہا پسندی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۰

انتہا پسندی

انتہا پسندی (extremism) ایک فطری صفت ہے۔ یہ صفت کسی شخص کے اندر کم ہوتی ہے اور کسی شخص کے اندر زیادہ۔ تاہم انتہا پسندانہ مزاج کا ایک تعمیری پہلو ہے اور دوسرا اس کا تخریبی پہلو۔ اس کا تعمیری پہلو یہ ہے کہ آدمی اصول کے معاملہ میں سخت حساس ہو، وہ دوسروں کے حقوق کے معاملہ میں کمی کو گوارا نہ کرے، وہ حق سے انحراف کو دیکھے تو تڑپ اٹھے۔ وہ اپنی غلطی کو شدید طور پر محسوس کرتا ہو۔ وہ اپنی کوتاہی کے معاملہ میں اس سے زیادہ شدید ہوجتنا کہ کوئی شخص دوسروں کی کوتاہی کے معاملہ میں شدید ہوتا ہے۔ یہ انتہا پسندی صحت مند انتہا پسندی ہے۔

انتہا پسندی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ منفی رخ اختیار کرلے۔ آدمی اپنے اس جذبہ کی بنا پر دوسروں سے نفرت کرنے لگے۔ وہ دوسروں سے لڑنے کے لیے تیار ہو جائے ۔ وہ اصلاح کے نام پر جنگ اور قتل شروع کردے۔ یہ انتہا پسندی کا قابل اعتراض صورت ہے۔ جب انتہا پسندی اس قسم کی منفی صورت اختیار کرلے تو وہ عملاً ایک برائی (evil) بن جاتی ہے، نہ کہ کوئی خیر (good)۔ حساسیت (sensitivity) انسان کی خاص صفت ہے۔ اس صفت کا تعمیری استعمال دنیا میں بھلائی کا سبب بنتا ہے۔ اس کے برعکس، جب اس صفت کا غلط استعمال ہونے لگے تو دنیا برائی سے بھر جائے گی۔

انتہا پسندی کا مزاج ہمیشہ محاسبہ کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ مگر یہ محاسبہ اپنے خلاف ہونا چاہئے۔ اس کے برعکس، اپنی کوتاہیوں سے غافل رہنا اور دوسروں کی کوتاہی پر ان سے لڑائی شروع کردینا سخت گناہ ہے۔ پہلا کردار اگر ثواب کا موجب ہے تو دوسرا کردار آدمی کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ اس کا سخت مواخذہ کیا جائے ۔

انتہا پسندی ایک فطری صفت ہے، جس طرح اعتدال پسندی ایک فطری صفت ہے۔ انتہا پسندی اس وقت برائی بن جاتی ہے، جب کہ اس کو عقل کے بجائے جذبات کے تابع کر دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues

Printed page