Al-Risala · September 2015 · page 41

معافی، رائے بدلنا

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۱

معافی، رائے بدلنا

کچھ باتیں ایسی ہیں جو معافی سے ختم ہو جاتی ہیں۔ مثلا کسی کو غصہ آگیا، اور غصے میں اس نے کوئی سخت بات کہہ دی، پھر اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا، اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، اس نے اپنی غلطی کی معافی مانگ لی۔ یہ وہ بات ہے، جو معافی سے ختم ہو جاتی ہے۔

دوسری بات وہ ہے جو اس وقت ختم ہوتی ہے، جب کہ آدمی اپنی رائے بدل لینے کا اعلان کرے۔ مثلا ایک شخص آپ کے بارے میں یہ کہے کہ آپ اسلام دشمن کے ایجنٹ ہیں، اور اس سے آپ کو پیسہ ملتا ہے، یہ بات صرف اس وقت ختم ہوگی جب کہ کہنے والا اپنی غلطی کا اعتراف کرے، اور اعلان کے ساتھ یہ کہے کہ میں نے جو کہا تھا، وہ صحیح نہیں تھا۔

وقتی جذبے کے تحت کوئی غلط بات منہ سے نکل جائے ۔ پھر آدمی کو اس پر شرمندگی ہو، اور وہ صاحب معاملہ سے معافی مانگ لے۔ یہ معافی کا کیس ہوگا۔ صاحب معاملہ کو چاہیے کہ وہ معافی مانگنے کے بعد اس کو معاف کر دے۔ وہ دل میں اس کے خلاف کدورت نہ رکھے۔

لیکن جو غلطی سوچی سمجھی رائے کے تحت ہو۔ وہ اس وقت تک قابل معافی نہیں، جب تک آدمی کا یہ حال نہ ہو جائے کہ وہ اپنی رائے کی غلطی دل سے مان لے۔ وہ سچے اعتراف کے جذبے کے تحت، صاحب معاملہ سے معافی کی درخواست کرے۔ ایسی حالت میں اس کی بات قابل معافی قرار پائے گی۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اس بات کے برے اثرات سے اپنے دل کو پاک کر لیں۔

معافی مانگنا اور معافی قبول کرنا دونوں عبادت کے افعال ہیں۔ معافی مانگنے والا معافی کے بعد ایسا ہو جاتا ہے گویا کہ اس نے غلطی نہیں کی تھی۔ اور معافی مانگنے کے بعد معاف کرنے والے کو اس بات کا کریڈٹ ملتا ہے کہ اس کا دل نفرت و عداوت سے خالی ہے۔ اس کے دل میں انسان کے لیے خیر خواہی ہے، نہ کہ نفرت اور انتقام۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues

Printed page