Al-Risala · January 2015 · page 43

تشدد کا خاتمہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۴۳

تشدد کا خاتمہ

قدیم عرب میں قرآن کے ذریعہ جس طرح تشدد کا خاتمہ ہوا، اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (3:103) یعنی اور اللہ کا یہ انعام اپنے اوپر یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ پس تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے تو اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ تمھارے لیے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تا کہ تم راہ پاؤ۔

قرآن عرب میں ساتویں صدی کے نصف اول میں اترا۔ اس وقت عرب میں مختلف قبائل آباد تھے۔ ان کے درمیان مستقل طور پر قبائلی جنگ (tribal war) جاری رہتی تھی۔ لڑائی کی نفسیات یہ ہے کہ جو فریق ہارتا ہے، وہ اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتا۔ بلکہ اس کے اندر انتقام (revenge) کا جذبہ ابھر آتا ہے۔ اس طرح ہر شکست کے بعد انتقامی لڑائی جاری رہتی ہے۔ اس انتقامی کلچر کی بنا پر عرب میں مسلسل جنگ (chain war) کا ماحول قائم ہو گیا تھا۔

اسی مسلسل جنگ کو قرآن میں آگ کا گڑھا کہا گیا ہے۔ اس آگ کے گڑھے سے نکلنے کا طریقہ قرآن میں یہ بتایا گیا کہ اہل ایمان یک طرفہ طور پر جنگ کا خاتمہ کر دیں۔ اس کے بعد فریق ثانی اپنے آپ جنگ سے رک جائے گا، اور عملاً جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ چنانچہ اس وقت کے اہل ایمان نے یہی کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے بعد عرب میں مسلسل جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔ جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کا یہی واحد کامیاب فارمولا ہے۔ کسی سماج میں جنگ کا ماحول دو طرفہ بنیاد (bilateral basis) پر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جنگ کا خاتمہ صرف یک طرفہ بنیاد (unilateral basis) پر ہوتا ہے، نہ کہ دو طرفہ بنیاد پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page