Al-Risala · January 2015 · page 44

زوالِ امت، اصلاحِ امت

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۴۴

زوالِ امت، اصلاحِ امت

روایت میں آیا ہے کہ مکی دور میں اہل مکہ اور یہود کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ اس کے بعد سورہ التوبہ کی آیت نمبر 19 نازل ہوئی۔ وہ مکالمہ یہ تھا: قيل إن المشركين قالوا لليهود، نحن سقاۃ الحجاج وعمار المسجد الحرام ـ فنحن أفضل أم محمد وأصحابه؟ فقالت اليهود لهم أنتم أفضل (التفسیر الکبیر، الرازی) یعنی کہا جاتا ہے کہ مکہ کے مشرکین نے یہود مدینہ سے کہا کہ ہم حاجیوں کو پانی پلانے والے اور مسجد حرام کا انتظام کرنے والے ہیں۔ پس ہم زیادہ افضل ہیں یا محمد اور ان کے اصحاب۔ یہود نے ان سے کہا کہ تم لوگ افضل ہو۔

اس واقعہ کے بعد قرآن کی یہ آیت اتری: أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (9:19) یعنی کیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد حرام کے انتظام کرنے کو برابر کر دیا اس شخص کے جو اللہ اور آخرت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ اللہ کے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا۔ قرآن کی اس آیت میں ایک واقعہ کے حوالے سے ایک اصولی بات بتائی گئی ہے۔ وہ یہ کہ کسی امت کا زوال یافتہ ہونا کیا ہے، اور یہ کہ جب کوئی امت دینی اعتبار سے اپنے زوال کے دور میں پہنچ جائے تو اس وقت اس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے مصلح کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دورِ زوال میں دین کا جو بگڑا ہوا فارم ان کے یہاں پایا جاتا ہے، اسی کو وہ اصل دین سمجھ لیتے ہیں۔ قدیم مکہ کے مشرکین، معروف قومی معنوں میں مشرکین نہ تھے، بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ملتِ ابراہیم کا زوال یافتہ حصہ تھے۔ اپنے طریقہ میں کنڈیشننگ کی وجہ سے وہ سمجھتے تھے کہ جو بگڑا ہوا دین ان کے یہاں ہے، وہی عین دینِ ابراہیم ہے۔ اسی یقین کی بنا پر انھوں نے یہود مدینہ سے مذکورہ سوال کیا، اور یہود چوں کہ خود بھی اپنے زوال کی بنا پر دینِ موسیٰ کی ایک بگڑی ہوئی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page