Al-Risala · October 2015 · page 4

عید اضحی کا پیغام

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴

عید اضحی کا پیغام

عید اضحیٰ کے موقع پر اہل ایمان جانور کی قربانی دیتے ہیں۔ روایات میں آیا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ ما هذه الأضاحي؟ اے خدا کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے جواب دیا: سنة أبيكم إبراہیم۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3127) یعنی تمہارے باپ ابراہیم کا طریقہ۔

حضرت ابراہیم کا طریقہ کیا تھا۔ وہ صرف یہ نہیں تھا کہ انھوں نے ایک مینڈھے کو پکڑا اور اس کو ذبح کر دیا۔ مینڈھے کا ذبیحہ ایک فدیہ کا معاملہ تھا۔ حضرت ابراہیم کا زمانہ ساڑھے چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔

اللہ کے منصوبے کے تحت وہ عراق کے زرخیز علاقے سے نکلے، اور اپنی بیوی ہاجرہ، اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ یہ گویا ڈیزرٹ تھراپی (desert therapy) کا معاملہ تھا۔ یعنی صحرائی ماحول میں تربیت دے کر ایک نئی نسل بنانا جو پیغمبرانہ مشن کی حامل بنے۔ گویا عید اضحیٰ کی قربانی خود اپنی قربانی ہے۔ جانور کی قربانی صرف فدیہ (37:107) کے طور پر ادا کی جاتی ہے۔

اس اعتبار سے غور کیا جائے تو عید اضحی کا دن وہ دن ہے جب کہ ہر مسلمان کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ قربانی کی سطح پر اپنے آپ کو اللہ کے مشن کے لیے وقف کرے گا۔ وہ اس پر امن دعوتی مشن کے لیے اپنے آپ کو بھر پور طور پر لگائے گا۔ وہ اپنے وقت اور اپنے مال کو اس مشن میں خرچ کرے گا۔ عید اضحی کی قربانی دراصل اس بات کا عزم ہے کہ اہل ایمان دوبارہ ابراہیمی تاریخ کو دہرائیں گے۔ پیغمبر کے دعوتی مشن کو زندہ کرنے کے لیے دوبارہ وہ سب کچھ کریں گے جس کا کرنا حالات کے لحاظ سے ضروری ہو۔ اپنی اولاد کے لیے ان کی سب سے بڑی تمنا یہ ہوگی کہ وہ پیغمبرانہ مشن میں اپنا رول ادا کریں، وہ دور جدید کے اسماعیل اور ہاجرہ‘‘ بنیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues

Printed page