Al-Risala · October 2015 · page 5

تاریخ ساز قربانی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۵

تاریخ ساز قربانی

جدید اثری تحقیقات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش 2160 ق م میں ہوئی۔ 175 سال کی عمر پا کر آپ نے 1985 ق م میں انتقال فرمایا۔ آپ دریائے فرات کے کنارے واقع قدیم شہر آر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ اس علاقہ کو پرانے زمانے میں بابل کہا جاتا تھا، اب اس کو عراق کہتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی قوم سورج، چاند اور ستاروں کو پوجتی تھی۔ چنانچہ اس نے اس قسم کے تقریباً 5 ہزار خدا بنا رکھے تھے۔ ان میں سورج اور چاند سب سے بڑے تھے مگر حضرت ابراہیم کو اپنی قوم کے دین سے رغبت نہ ہوسکی۔ انسانی بستیوں کے بگڑے ہوئے ماحول میں اپنے لئے کشش نہ پا کر آپ بستی سے باہر نکل جاتے اور تنہائیوں میں زمین و آسمان کے نظام پر غور کرتے۔ ماحول کے فکری دباؤ سے آزاد ہو کر جب آپ سوچتے تو آپ پر نئی حقیقتوں کے دروازے کھلتے ہوئے نظر آتے۔ آپ آسمان میں یہ منظر دیکھتے کہ چاند چمکتا ہے اور پھر ماند پڑ جاتا ہے۔ ستارے نکلتے ہیں اور پھر ڈوب جاتے ہیں۔ سورج روشن ہوتا ہے اور پھر رات کی تاریکی میں چھپ جاتا ہے۔ ان واقعات پر غور کرنے کے بعد آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ چیزیں جو عروج و زوال کے قانون میں بندھی ہوئی ہیں وہ خدا نہیں ہو سکتیں۔ خدا تو وہی ہو سکتا ہے جو عروج و زوال کی حد بندیوں سے اوپر ہو۔

یہ آپ کی ایثار و قربانی سے بھری ہوئی زندگی میں پہلا ایثار‘‘ تھا۔ جوانی کی عمر میں آدمی تفریحات میں رہنا پسند کرتا ہے مگر آپ نے خاموش تنہائیوں کو اپنا دوست بنایا۔ اس زمانہ کو آدمی بے فکری میں گزار دیتا ہے مگر اس کو آپ نے سنجیدہ سوچ بچار کی بے قراری کے حوالے کر دیا۔ اس عمر کو پہنچ کر آدمی مادی لذتوں اور دنیوی ترقیوں کی طرف دوڑتا ہے مگر آپ نے اپنی بہترین گھڑیوں کو حقیقت کی تلاش میں لگا دیا۔ آدمی کے لئے سب سے آسان طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے آباء واجداد کے مذہب پر چل پڑے مگر آپ نے ایک انقلابی انسان کی طرح رواج کو چھوڑ کر سچائی کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ جو ہو رہا ہے کے مقابلہ میں آپ نے جو ہونا چاہئے‘‘ کو ترجیح دی۔ یہ بہت بڑا نفسیاتی ایثار

‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues

Printed page