Al-Risala · October 2015 · page 9

تاریخ ساز قربانی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۹

محبوب ہوگا۔ مگر بیٹا جب بڑا ہوا اور آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا تو ایثار و قربانی کا ایک اور کڑا امتحان سامنے آ گیا۔ خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ اپنے آخری سہارے سے بھی دست بردار ہو جاؤ، اپنے بیٹے کو ہماری راہ میں قربان کر دو۔ تو رات کے بیان کے مطابق جب قربانی کا حکم ہوا تو اس وقت آپ کے فرزند کی عمر 13 سال تھی۔

حضرت ابراہیم سو سال کی عمر کو پہنچ گئے تھے کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں۔ خواب کو عام طور پر ایک تمثیلی چیز سمجھا جاتا ہے۔ آپ اس کو کسی تعبیری مفہوم میں لے سکتے تھے۔ مگر یہ حضرت ابراہیم کے ایثار و قربانی کے جذبہ کی انتہا تھی کہ آپ نے خواب کی کوئی تاویل نہ کی۔ آپ اس خواب کو اس کی اصلی صورت میں زیر عمل لانے کے لئے تیار ہو گئے۔ مروہ پہاڑی کے مقام پر تاریخ کا وہ انوکھا واقعہ پیش آیا جس کو دیکھنے کے لئے زمین و آسمان رک گئے۔ بوڑھاباپ اپنے محبوب بیٹے کو خود اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہا تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے عین وقت پر مداخلت کر کے حضرت اسماعیل کو ذبح ہونے سے بچا لیا۔ آسمان سے آواز آئی کہ بس تم نے تسلیم و وفاداری کا آخری ثبوت دے دیا۔ بیٹے کے بدلے میں اللہ نے آپ کی طرف سے مینڈھے کی قربانی قبول کر لی۔ اس کے بعد یہ طریقہ مستقل طور پر تمام خدا پرستوں کے لئے مقرر کر دیا گیا۔ حکم ہوا کہ آدمی اپنی قربانی کے علامتی فدیہ کے طور پر ہر سال انھیں تاریخوں میں جانور ذبح کرے جن تاریخوں میں حضرت ابراہیم خدا کے حکم کی تعمیل میں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔

حضرت ابراہیم کو جو خواب دکھایا گیا اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ آپ اپنے عزیز بیٹے کو دعوت توحید کے مرکز (بیت اللہ کی خدمت کے لئے وقف کر دیں۔ اسی غرض سے حکم ہوا تھا کہ اسماعیل اور ان کی والدہ کو لے جا کر مکہ کی خشک اور سنسان زمین پر بسادو۔ مگر اس بات کو چھری سے ذبح کرنے کی صورت میں ممثّل کیا گیا۔ اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ دین کی خدمت کوئی معمولی چیز نہیں ہے، یہ اپنے آپ کو جیتے جی ذبح کرنا ہے۔ "ذبح‘‘ ایثار و قربانی کی آخری انتہا ہے اور ایثار و قربانی کی آخری انتہا پر پہنچ کر ہی آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ خدا کے دین کی خدمت کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues

Printed page