تاریخ ساز قربانی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۸
نے آپ کو بچالیا۔ اس کے بعد آپ کو مجبور کیا گیا کہ آپ عراق کو چھوڑ دیں اور ملک کے باہر چلے جائیں۔ یہاں سے آپ کی زندگی میں ایثار و قربانی کا ایک اور شدید تر مرحلہ شروع ہوا ہے۔ ملک کے معزز ترین خاندان کا ایک فرد اس طرح بے سرو سامانی کی حالت میں اپنے وطن سے نکلا کہ اس کے ساتھ صرف اس کی بیوی سارہ تھی اور اس کا بھتیجا لوط۔ تین آدمیوں کا یہ مختصر قافلہ خانہ بدوشوں کی طرح دریائے فرات کے کنارے کنارے سفر کرتا ہوا حاران پہنچا۔ پھر بحر ابیض کے ساحلی علاقوں سے گزرتا ہوا شام اور فلسطین اور مصر تک چلا گیا۔ مگر ان مقامات کے لوگ بھی اسی قسم کے غیر خدائی معبودوں کو ماننے والے تھے جن کو نہ ماننے کے جرم میں آپ کو اپنے وطن سے نکلنا پڑا۔ آخر اللہ کی طرف سے آپ کو یہ حکم ہوا کہ تم حجاز کے بے آب و گیاہ علاقہ میں جاؤ۔ وہاں پتھروں اور خشک پہاڑوں کے درمیان خدا کا ایک گھر بناؤ۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم جب مکہ آئے تو اس وقت وہاں نہ کوئی آدمی تھا اور نہ پانی (لیس یومئذ بمكة احد وليس بها ماء - صحيح البخاري، حدیث نمبر : 3364) وقت کے انسانوں نے خدا کو چھوڑ کر خود اپنے بنائے ہوئے معبودوں کی پرستش شروع کر دی تھی۔ تاہم پتھر اور پہاڑ اب بھی اپنی اصل فطری حالت پر باقی تھے۔ اس فطرت کے ماحول میں آپ کو خدا کا گھر بنانے کا حکم ہوتا تاکہ کوئی بندہ جو خالص خدا کی عبادت کرنا چاہے وہ یہاں آ کر خدا کی عبادت کرے۔ اب حضرت ابراہیم بحر قلزم کے ساحلی علاقوں سے گزرتے ہوئے موجودہ مکہ کے مقام پر پہنچے اور یہاں بیت اللہ کی تعمیر کی۔ وہ شخص جو عزت اور خوش حالی کی گود میں پیدا ہوا تھا اُس نے حق کی خاطر تنہائی، مسافرت اور تنگ و دشوار زندگی کو اپنے لئے اختیار کر لیا۔ حضرت ابراہیم 75 سال کی عمر میں عراق سے نکلے تھے۔ 10 سال کی مسافرانہ زندگی کے بعد 2074 ق م میں آپ کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام آپ نے اسماعیل رکھا (اسماعیل کے معنی سمیع اللہ کے ہیں) اس وقت آپ کی عمر 86 سال تھی۔ بڑھاپے کی اولاد یوں بھی آدمی کو عزیز ہوتی ہے۔ اور آپ کا حال تو یہ تھا کہ تمام دوستوں اور رشتہ داروں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور اب آپ تمام تر اپنے بیوی بچے کے سہارے پر رہ گئے تھے۔ ایسی حالت میں ہونہار لڑکا آپ کو کتنا زیادہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues