تفکیر، مفکر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۵
تفکیر، مفکر
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 عیسوی میں شروع کیا۔ اس سے پہلے لمبی مدت تک آپ کا حال یہ تھا کہ آپ متلاشی (seeker) بنے ہوئے تھے۔ نبوت ملنے سے پہلے آخری زمانے میں آپ کا معمول یہ تھا کہ آپ مکہ کے قریب ایک پہاڑ کے غار (cave) میں چلے جاتے تھے، جس کا نام غارِ حراء تھا۔ اس غار میں آپ مراقبہ (meditation) نہیں کرتے تھے، بلکہ آپ وہاں مسلسل طور پر غور و فکر (contemplation) میں مشغول رہتے تھے۔ غارِ حرا کے اسی قیام کے آخری دن آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔
حقیقت یہ ہے کہ غارِ حرا پیغمبرِ اسلام کی ایک سنت ہے۔ یہ سنت بتاتی ہے کہ سچے انسان کی زندگی کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے۔ قرآن میں اس معاملے کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَى (93:7) یعنی اللہ نے تم کو تلاش حق میں سرگرداں پایا تو تم کو اس نے رہنمائی دی۔ یہ واقعہ پیغمبرِ اسلام کی اُسی طرح ایک سنت ہے جس طرح آپ کی دوسری سنتیں۔
حقیقی مفکر وہ ہے جو حرا جیسے مرحلے سے گزر کر مفکر بنے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ تقریباً تمام وہ لوگ جو مفکر (thinker) سمجھے جاتے ہیں، وہ اس تفکیری مرحلہ (thinking process) سے گزر کر مفکر نہیں بنے، بلکہ وہ اپنے قریبی حالات کے زیر اثر مفکر بنے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ معاملہ مذہبی مفکرین کا بھی ہے اور سیکولر مفکرین کا بھی۔
سیکولر مفکرین کی ایک نمایاں مثال کمیونسٹ مفکر کارل مارکس (وفات: 1883) کی ہے۔ اس کا فکر اپنے زمانے کے صنعتی مسائل کے تحت بنا۔ یہ فکر ٹکراؤ کے اصول پر مبنی تھا۔ جس کو خود اس نے جدلیاتی فکر (dialectical interpretation of history) کا نام دیا ہے۔ یہی معاملہ ان افراد کا بھی ہے جو مذہب کے دائرے میں مفکر سمجھے جاتے ہیں۔ یہ لوگ بھی تقریباً سب کے سب ردِ عمل کی پیداوار تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues