Al-Risala · October 2015 · page 16

تفکیر، مفکر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۶

اسلام کی لٹریری تاریخ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ عباسی دور میں ترجموں کے ذریعے یونانی علوم کا چرچا ہوا۔ اس وقت کچھ مسلم اسکالر اس کے رد کے لیے کھڑے ہو گئے۔ ان کو مفکر کا درجہ دے دیا گیا۔ پھر تیر ہویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کے حملہ کا حادثہ پیش آیا تو بہت سے مسلم اسکالر اس کے رد عمل میں لکھنے اور بولنے لگے۔ وہ بھی مسلمانوں کے درمیان مفکر قرار پائے۔ اسی طرح کچھ مسلم اسکالر نے فرق باطلہ کے خلاف تردیدی محاذ کھول دیا تو مسلمانوں نے ان کو بھی مفکر کا درجہ دے دیا، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں یہی معاملہ مزید اضافے کے ساتھ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانے میں کچھ مسلم رہنماء صہیونیت کے خلاف سرگرمی دکھارہے ہیں، اور کچھ لوگ استشر اق کے خلاف۔ کچھ مسلمان نو آبادیات کے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، اور کچھ مغربی تہذیب کے خلاف۔ کچھ لوگ سیکولر حکومتوں کو زیر کرنے میں مشغول ہیں، اور کچھ لوگ مفروضہ ظالموں کے خلاف سرگرم ہیں، وغیرہ۔ یہ تمام لوگ مسلمانوں کے درمیان مفکر کا درجہ پائے ہوئے ہیں۔ مگر یہ نہ تفکیر ہے اور نہ ایسا کرنے والوں کو مفکر کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔

قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد للہ رب العالمین۔ اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تفکیر کو مبنی بر حمد تفکیر ہونا چاہیے۔ اسلام کی تفکیر وہ ہے جو رب العالمین کی تلاش سے شروع ہو، پھر وہ معرفت تک پہنچے۔ یہ تفکیر اپنے آغاز سے لے کر اپنے انجام تک مکمل طور پر ایک مثبت تفکیر (positive thinking) ہے۔ وہ منفی سوچ (negative thinking) سے مکمل طور پر پاک تفکیر ہے۔ جو لوگ اس تفکیر کی شرط پر پورا اتریں، وہی حقیقی معنوں میں وہ لوگ ہیں جن کو مفکر کا درجہ دیا جائے۔

اس کے برعکس، دوسرے لوگ وہ ہیں جن کی تفکیر مبنی بر عداوت تفکیر ہو۔ عداوت شیطان کا کلچر ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف عداوت کے جذبات (5:91) پیدا کرے۔ جو لوگ شیطان کی تزئین سے متاثر ہوں، وہ مختلف عذر (excuse) کو لے کر دوسرے انسانوں کے خلاف نفرت اور عداوت کا شکار ہوجاتے ہیں، وہ اسی طرز پر سوچنے لگتے ہیں،

‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues

Printed page