مثل قرآن ممکن نہیں
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۹
مثل قرآن ممکن نہیں
قرآن کی سورہ نمبر 17 میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا (الاسراء : 88) کہو کہ اگر تمام انسان اور جنات جمع ہو جائیں کہ ایسا قرآن بنا لائیں تب بھی وہ اس کے جیسا نہ لاسکیں گے، اگر چہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔
کچھ لوگوں نے قرآن کے اس چیلنج کو لفظی معنی میں لے لیا۔ انھوں نے قرآن کا لفظی جواب دینے کی کوشش کی۔ مثلاً ایرانی ادیب عبد اللہ ابن مقفع (وفات : 142ھ) نے قرآن کے جواب میں ایک عربی کتاب تیار کرنے کی کوشش کی لیکن خود ہی اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اس نے اس منصوبے کو چھوڑ دیا۔ اسی طرح یمامہ کے مسیلمہ (وفات : 12ھ) نے قرآن کے جواب میں کچھ سورتیں لکھیں۔ مثلاً سورہ الفیل کے جواب میں اس نے یہ الفاظ وضع کیے : الفیل ما الفیل له ذنب وثيل ومشفر طویل ۔ مگر یہ سب لغو باتیں تھیں ۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ چیلنج آئیڈیا لوجی کے معنی میں ہے۔ یعنی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ قرآن کے مقابلے میں کوئی متوازی آئیڈیا لوجی (parallel ideology) وضع کر سکے۔
تاریخ میں بار بار قرآن کی مثل آئیڈیا لوجی تیار کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر اس میں مکمل ناکامی ہوئی ۔ مثلا خالق کا بدل (alternative) وضع کرنا، قرآن کے بیان کردہ تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے مقابلے میں دوسرا منصوبہ وضع کرنا، وحی (revelation) کا بدل وضع کرنا، اخروی جنت کے بجائے دنیوی جنت تعمیر کرنا، كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185) کے بجائے ابدی حیات کو ممکن بنانے کی کوشش کرنا، أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28) کے بجائے غیر خدا میں اطمینان قلب حاصل کرنے کی کوشش کرنا، وغیرہ۔ انسان نے بار بار ان پہلوؤں سے قرآن کا جواب وضع کرنے کی کوشش کی لیکن اس معاملے میں اس کو مکمل ناکامی ہوئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues