Al-Risala · October 2015 · page 18

مصائب کی حکمت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۸

مصائب کی حکمت

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں زندگی کی ایک حقیقت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ. الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ. أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرۃ: 57-155)۔ یعنی اور ہم تم کو ضرور آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف ہم لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ راہ پر ہیں۔

دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مختلف قسم کی مصیبتیں آتی ہیں۔ یہ مصیبتیں بلاسبب نہیں ہوتیں۔ ان کی بہت بڑی حکمت ہے۔ یہ مصیبتیں انسان کو کٹ ٹو سائز (cut to size) بناتی ہیں۔ اور کٹ ٹو سائز ہونا انسان کی اصلاح کا سب سے بڑا راز ہے۔

کٹ ٹو سائز ہونا آدمی کو حقیقت پسند بناتا ہے۔ وہ انسان سے بڑائی کا جذبہ چھین لیتا ہے۔ وہ انسان کے اندر تواضع (modesty) کی صفت پیدا کرتا ہے۔ وہ انسان کو ایگوئسٹ (egoist) بننے سے بچاتا ہے۔

کٹ ٹو سائز ہونا انسان کو انسان اصلی بناتا ہے۔ انسان کو اس کی فطری حالت پر واپس لاتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر یہ اوصاف پیدا ہو جائیں، اس کو ایک کامیاب انسان بننے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ کٹ ٹو سائز ہونے سے پہلے انسان ایک مصنوعی انسان ہوتا ہے۔ کٹ ٹو سائز ہونے کے بعد انسان ایک حقیقی انسان بن جاتا ہے۔ اور جو انسان حقیقی انسان بن جائے اس کے لیے فطرت کے قانون کے مطابق، خیر کے تمام دروازے اس طرح کھل جاتے ہیں کہ کوئی دروازہ اس کے اوپر بند نہیں رہتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues

Printed page