Al-Risala · January 2015 · page 46

مبنی بر شوریٰ نظام

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۴۶

مبنی بر شوریٰ نظام

قرآن کی سورہ الشوریٰ کی ایک آیت یہ ہے: وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَوةَ ۖ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنفِقُونَ (42:38) یعنی اور وہ جنھوں نے اپنے رب کی دعوت کو قبول کیا اور نماز قائم کی اور ان کا نظام شوریٰ پر ہے، اور ہم نے جو کچھ انھیں دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق فرد (individual) اور اجتماع (society) کے لیے خدا کا پسندیدہ طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ کہ انفرادی عقیدہ کے معاملے میں آئیڈیل مطلوب ہے اور سماجی نظام کے معاملے میں پریکٹیکل (practical)۔ ہر فرد سے یہ مطلوب ہے کہ وہ مطالعہ اور تحقیق کے ذریعہ سچائی کو دریافت کرے، اور جب اس کو سچائی کی دریافت ہو جائے تو وہ اپنی ذات کے اعتبار سے پوری طرح اس کو اختیار کر لے۔ اس معاملے میں کسی فرد سے عذر (excuse) قبول نہیں کیا جائے گا۔ اجتماع (society) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اجتماع بہت سے افراد کے مجموعے کا نام ہے۔ ہر فرد آزادانہ طور پر سوچتا ہے، ہر فرد آزادانہ طور پر رائے قائم کرتا ہے۔ اس بنا پر اجتماعی معاملے میں کامل اتفاق رائے کبھی ممکن نہیں ہوتا۔ اس کا عملی حل صرف یہ ہے کہ اجتماعی معاملہ کو مشورہ (consultation) پر مبنی قرار دیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ اجتماعی معاملے میں فیصلہ کثرت رائے کی بنا پر ہوگا، نہ کہ کامل اتفاق رائے کی بنا پر۔

موجودہ زمانہ میں اسی اجتماعی اصول کو جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔ ڈیموکریسی دراصل اکثریت کی حکومت (majority rule) کا نام ہے۔ جمہوریت کے تحت اکثریت کی رائے بذریعہ الیکشن معلوم کی جاتی ہے۔ جمہوری نظام یہ ہے کہ الیکشن کی بنیاد پر اکثریت کے نمائندہ کو محدود مدت کے لیے حکومت (انتظامیہ) کا کام چلانے کا موقع دیا جاتا ہے۔ محدود مدت (ٹرم) کے خاتمہ پر دوبارہ الیکشن ہو، اور اسی طرح بار بار الیکشن کے ذریعہ فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یہی اس معاملے میں اسلام کا طریقہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page