Al-Risala · January 2015 · page 45

زوالِ امت، اصلاحِ امت

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۴۵

صورت پر قائم تھے ، اس معاملہ میں ان کی نفسیات بھی وہی تھی ، جو مکہ والوں کی نفسیات تھی۔ اس لئے انھوں نے کہہ دیا کہ تمھارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعتبار سے دین ابراہیمی کے مجدد تھے۔ آپ مکہ کے لوگوں کے درمیان دوبارہ اصل دین ابراہیمی کو زندہ کرنا چاہتے تھے۔ آیت کے الفاظ کمن آمن باللہ والیوم الآخر دراصل پیغمبر کے طریق اصلاح کو بتا رہے ہیں ، اور وہ یہ کہ آپ کا طریقہ ایمان کو زندہ کرنا تھا۔

اس معاملہ کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ قدیم اہل مکہ اپنے دینی زوال کی بنا پر ایک بے روح مذہب (spiritless religion) پر قائم تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جو کام کیا ، وہ گویا با روح مذہب (spiritful religion) کو ان کے درمیان زندہ کرنا تھا۔ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت سے مراد یہی اسپرٹ والا مذہب ہے۔

قرآن کی یہ آیت ایک تاریخی حوالے کے ذریعہ یہ بتا رہی ہے کہ امت مسلمہ جب اپنے دور زوال میں پہنچے گی تو اس کا کیا حال ہوگا ، اور اس کے درمیان دوبارہ احیا (revival) کا کام کس طرح کرنا چاہئے۔ اس آیت میں زوال یافتہ امت کی تصویر بھی ہے ، اور یہ بات بھی کہ دور زوال کے بعد دور عروج میں لانے کے لیے مصلح کو کیا کرنا چاہئے۔

دور زوال میں ایسا نہیں ہوتا کہ امت اپنے دین سے بے تعلق ہو جائے ، اپنے خیال کے مطابق وہ پوری طرح دین پر قائم ہوتی ہے ، لیکن یہ دین محض ایک بے روح اعمال (spiritless form) کا ایک دین ہوتا ہے۔ ایسا دین اللہ کو مطلوب نہیں۔ اللہ کو وہ دین مطلوب ہے جو ایک زندہ دین ہو ، اور پوری طرح ربانی اسپرٹ پر قائم ہو۔

زوال کے دور میں مصلحین کے لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ اسپرٹ سے خالی دین کو دوبارہ اسپرٹ سے بھرا ہوادین بنائیں ، وہ بے روح ڈھانچہ (spiritless form) کو دوبارہ با روح ڈھانچہ (spiritful form) بنادیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page