Al-Risala · October 2015 · page 25

صبر کا انعام

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۵

صبر کا انعام

اگر آدمی ایک چیز کے کھونے پر صبر کر لے تو اس کے بعد وہ اس سے زیادہ بڑی چیز پا لیتا ہے جس کے کھونے پر اس نے صبر کیا تھا۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ آدمی جب صبر کرتا ہے تو اس کا صبر ایک ایسی چیز پر ہوتا ہے جو فطرت کے قانون کے مطابق پیش آئی تھی، جس میں آدمی کو کوئی اختیار نہیں۔ اس طرح صبر کا مطلب یہ ہے کہ نہ ملنے والی چیز پر محرومی کو بطور واقعہ تسلیم کرنا، اور ملنے والی چیز کے حصول کے لیے اپنی کوشش کو جاری رکھنا۔

صبر (patience) کوئی بے عملی کا واقعہ نہیں۔ بلکہ صبر ایک عظیم عمل ہے۔ صبر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی کی زندگی میں کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش آئے تو وہ اس پر افسوس کر کے اپنا وقت ضائع نہ کرے، بلکہ وہ اس کو بھلا دے۔ یہی صابرانہ روش ہے۔ اس صابرانہ روش کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی بقیہ وقت کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے کہ نئے عزم کے ساتھ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ وہ نئے مواقع (opportunities) کو دریافت کر کے ان کو استعمال کرے_ کھونے کے بعد بھی اس کے پاس جو کچھ بچا ہے اس کو منظم انداز میں کام میں لانے کی کوشش کرے۔ وہ گزرے ہوئے ناخوشگوار واقعے کو اپنے لیے ایک تجربہ بنا لے_ وہ اس سے سبق سیکھے اور آئندہ زیادہ بہتر انداز میں اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔

پرانا مقولہ ہے کہ صبر تلخ است ولیکن بر شیریں دارد (صبر کڑوا ہے، لیکن اس کا پھل میٹھا ہوتا ہے)۔ دنیا کا قانون یہ ہے کہ بے صبری ہمیشہ آدمی کے نقصان میں مزید اضافہ کرے۔ اور صبر آدمی کو اس قابل بنائے کہ وہ ایک چانس کو کھونے کے بعد وہ دوسرے چانس کو نہ کھوئے، وہ دوسرے چانس کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اس نقصان کی تلافی کرلے_ اس دنیا کے بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ مواقع سے بھری ہوئی ہے۔ ایک موقع کو کھونا، کبھی خاتمہ کے ہم معنی نہیں ہوتا، بلکہ وہ نئے موقع کو دریافت کر کے اس کو استعمال کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues

Printed page