صبر کا انعام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۶
پاکستانی ڈائسپورا Pakistanis in Diaspora پاکستان 1947 میں بنا۔ اس کے بانیوں کا خواب تھا— پاکستان کو ایک علاحدہ مسلم اسٹیٹ (separate Muslim state) بنانا۔ مگر اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ پاکستان بننے کے بعد وہاں ایسے حالات پیدا ہوئے کہ پاکستانی مسلمان بڑی تعداد میں پاکستان کو چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں جانے لگے۔ یہاں تک کہ پاکستانی مسلمانوں کی پاکستان سے باہر ایک بڑی کمیونٹی وجود میں آگئی۔ اس کمیونٹی کو پاکستانیز ان ڈائسپورا (Pakistanis in Diaspora) کہا جا سکتا ہے۔ ان کی مجموعی تعداد تقریباً 8 ملین ہے:
There are around eight million Pakistani people living abroad. یہ کوئی اتفاقی بات نہیں، یہ جو ہوا، یہ اللہ کے منصوبہ کے تحت ہوا۔ پاکستانی قوم ایک زندہ قوم ہے۔ اللہ کو یہ منظور ہوا کہ وہ پاکستانی قوم کو ایک زیادہ بڑے مشن کے لیے استعمال کرے۔ وہ تھا ساری دنیا میں پاکستانیوں کو پرامن خدائی سفیر (ambassadors of God) بنانا، پاکستانیوں کو یہ دعوتی رول دینا کہ وہ اللہ کے پیغام کو ساری دنیا کے لوگوں تک پہنچائیں۔
یہ گویا با اعتبار صورت صحابہ کی تاریخ کا ایک اعادہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ تیرہ سال بعد آپ ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ پہنچے۔ ہجرت سے پہلے آپ نے کہا تھا: أمرت بقرية تأكل القرى، يقولون يثرب، وهي المدينة ـ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871) یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، جو بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول سادہ طور پر مدینہ کی فضیلت کا بیان نہ تھا۔ یہ دراصل ایک عالمی دعوتی عمل (process) کی پیشین گوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہجرت کے بعد مدینہ اسلام کا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues