بڑا کام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۱
بڑا کام
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من تواضع لله درجة رفعه الله درجة، حتى يجعله في عليين، ومن تكبر على الله درجة، وضعه الله درجة، حتى يجعله في أسفل السافلين (مسند احمد، حدیث نمبر 11724)۔ یعنی جس نے اللہ کے لیے تواضع اختیار کی ایک درجہ تو اللہ اس کو ایک درجہ بلند کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کو علیین میں پہنچا دیتا ہے۔ اور جس نے اللہ کے مقابلے میں کبر کی روش اختیار کی ایک درجہ تو اس کو اللہ ایک درجہ نیچے کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیتا ہے۔
یہ کوئی پر اسرار بات نہیں بلکہ وہ اس دنیا کے لیے اللہ کا ایک مقرر کردہ فطرت کا قانون ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص تواضع (modesty) کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے اندر وہ اوصاف پیدا ہونے لگتے ہیں جو کہ بڑا کام کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی بڑا کام انجام دے۔ لیکن بڑا کام انجام دینے کے لیے ہمیشہ اعلی صفات درکار ہوتی ہیں۔ جس کو قرآن میں خُلُق عظیم (68:4) کہا گیا ہے۔ خُلُق عظیم سے مراد اعلی اخلاق (sublime character) ہے۔ اعلی اخلاق کے بغیر کوئی شخص کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔
فطرت کے قانون کے مطابق ایسے انسان کو ہر قسم کی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس کبر پسند انسان اللہ کا غیر مطلوب انسان ہے۔ ایسے انسان کو اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔ اس کا ساتھی شیطان بن جاتا ہے۔ اور جس انسان کا ساتھی شیطان بن جائے اس کے لیے خدا کی دنیا میں ذلت اور ناکامی کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔ لوگ عام طور پر اپنی ذات میں جیتے ہیں، ایسے لوگ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔ بڑا کام کرنے والا وہ شخص ہے جو اپنی ذات کے باہر جینے والا بن گیا ہو، جو دینے والا بن کر جیے، نہ کہ صرف لینے والا بن کر۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues