Al-Risala · October 2015 · page 30

بلا استحقاق عطیہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۰

بلا استحقاق عطیہ

قرآن میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (45:13) یعنی اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمھارے لئے مسخر کر دیا، سب کو اپنی طرف سے، بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سوچتے ہیں۔

ایک انسان اگر کسی بلند مقام پر کھڑا ہو کر اپنے چاروں طرف دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھے اور نہ دکھائی دینے والی چیزوں کو سوچے تو وہ کہہ اٹھے گا کہ خدایا، اس دنیا میں تو نے سب کچھ مجھے بلا استحقاق اور بلا طلب دے دیا۔ یہ سوچ اس کو آخرت کی یاد دلائے گی، اور پھر وہ کہہ اٹھے گا خدایا، آخرت میں بھی تو میرے ساتھ اسی طرح رحمت کا معاملہ فرما۔ تو مجھ کو بلا حساب جنت میں داخل کر دے۔ انسان کے اندر اگر ایمانی بیداری ہو، اور اس کے اندر اعلیٰ درجے کا ایمانی شعور پیدا ہو جائے تو اس کو بار بار اس طرح کا تجربہ ہوگا۔ وہ اپنے اندر خالق کو دریافت کرے گا۔ وہ کائنات کی ہر چیز میں رب السموات والارض کا مشاہدہ کرے گا۔ ہر تجربہ اس کے لیے ربانی تجربہ بن جائے گا۔ انہی ربانی تجربات کے درمیان وہ جنتی شخصیت بنتی ہے جس کو مزکیّٰ شخصیت(purified soul) کہا جاتا ہے۔ جنت کسی کو کسی خارجی چیز پر نہیں ملے گی، بلکہ خود اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کے ذریعہ ملے گی۔ ربانی شخصیت کی تعمیر کا یہ معاملہ پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ ایمانی شعور پیدا ہونے کے بعد وہ انسان کے اندر ساری عمر جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ انسان اپنی عمر پوری کر کے اپنے رب سے جا ملتا ہے۔

قرآن و سنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں سب سے زیادہ اہمیت کی چیز اللہ کا ذکر ہے۔ ذکر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انگلیوں پر یا تسبیح کے دانوں پر اللہ کے لفظ کا ورد کیا جاتا رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا تصور آدمی کے ذہن میں اس طرح سما جائے کہ وہ انسان کے فکری عمل(thinking process) میں شامل ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues

Printed page