Al-Risala · October 2015 · page 33

بیانیہ اسلوب، تجزیاتی اسلوب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۳

بیانیہ اسلوب، تجزیاتی اسلوب

تحریر کے دو طریقے ہیں ۔ بیانیہ اسلوب، اور تجزیاتی اسلوب۔ بیانیہ اسلوب یہ ہے کہ آدمی ایسی بات کہے جو اس کے اپنے ذہن کی بات ہو، لیکن اس کے ذہن کے باہر اس کا کوئی واقعاتی مصداق موجود نہ ہو۔ مثلاً یہ کہنا کہ مغرب میں استشر اق نو آبادیاتی حکومتوں کو تقویت پہنچانے کے لیے پیدا ہوا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے ساتھ ضروری دلیل شامل نہیں۔

تجزیاتی اسلوب یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ مستشرقین کا تصور ہر لحاظ سے مختلف تھا۔ اس کے لحاظ سے انھوں نے چیزوں کا مطالعہ کیا۔ مثلاً وہ سمجھتے تھے کہ مذہب ایک سماجی ظاہر ہ (social phenomenon) ہے۔ اپنے اس تصور کے مطابق انھوں نے مذہب کی باتوں کی توجیہہ بیان کی۔ یہ تصور مسلم علماء کے تصور کے خلاف تھا۔ مسلم علماء اس پر مشتعل ہو گئے۔ مگر مسلم علماء کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ مستشرقین کے مذہبی تصور کا تجزیہ دلائل کی زبان میں کرتے۔ اس کے برعکس، وہ اس قسم کی الزامی باتیں کہنے لگے کہ استشر اق اہل مغرب کی سازش ہے۔ مسلم اہل قلم نے استشر اق کے خلاف بہت سی کتابیں شائع کی ہیں۔ مگر راقم الحروف کے علم کے مطابق یہ کتابیں رد عمل کی مثالیں ہیں، ان میں سے کوئی بھی کتاب غالباً علمی تجزیہ کی مثال نہیں۔ جدید استشر اق در اصل سائنٹفک نقطہ نظر کے تحت پیدا ہوا۔ سائنسی طریق مطالعہ میں چیزوں کو معلوم ظواہر کے اعتبار سے آبجیکٹیو (objective) طور پر جانچا جاتا ہے۔ اس طریق مطالعہ میں یہ بات خارج از بحث ہے کہ چیزوں کو وحی کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس طریق بحث نے علماء کو استشر اق کے بارے میں منفی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔ مگر منفی سوچ کے تحت استشر اق کے خلاف بیانات دینا بے فائدہ ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے استشر اق کا تجزیہ علمی حقائق کی بنیاد پر کیا جائے۔ اس زمانے میں تجزیاتی اسلوب کی قیمت ہے، بیانیہ اسلوب کی اس زمانے میں کوئی قیمت نہیں۔ بیانیہ اسلوب میں لکھی ہوئی چیزیں صرف ردی کی ٹوکری میں جگہ پاتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues

Printed page