بلاشرط ساتھ دینا
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۴
بلاشرط ساتھ دینا
مشن کا تصور پہلے ایک انسان کے دماغ میں پیدا ہوتا ہے۔ پھر وہ انسان اس کو عملاً شروع کرتا ہے، لیکن کسی مشن کی کامیابی اس کے بغیر نہیں ہوتی کہ بہت سے لوگ اس کا ساتھ دیں۔ ان ساتھ دینے والوں کو بلا شرط صاحب مشن کا ساتھ دینا چاہئے۔ اگر ان کا مزاج مشروط ساتھ دینے والا ہو تو وہ پوری طرح مشن میں اپنا حصہ ادا نہیں کر سکیں گے۔ کسی نہ کسی مقام پر وہ کوئی شکایت یا کوئی عذر (excuse) لے کر صاحب مشن کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔
بلا شرط صاحب مشن کا ساتھ دینا کوئی شخصیت پرستی (personality cult) کا معاملہ نہیں۔ وہ شعوری ارتقا کا معاملہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ دو انسانوں کی فکری سطح (wavelength) ایک ہو جائے۔ جب ایسا ہو جائے تو انسان ذہنی اعتبار سے اس درجے میں پہنچ جاتا ہے کہ اس کی فکر الگ نہ ہو۔ اس قسم کے افراد جب کسی مشن کے گرد اکٹھا ہوں اسی وقت وہ مشن کامیاب ہوتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہِ صَفّاً کَأَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ (61:4) یعنی اللہ تو ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستے میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
یہ ایک کامل اتحاد کا معاملہ ہے۔ اس قسم کا اتحاد صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ صاحب مشن اور مشن کے ساتھیوں کی فکری سطح پوری طرح ایک ہو گئی ہو۔ اس کامل اتحاد کا تعلق میدان جنگ سے بھی ہے اور اس حالت سے بھی ہے جب کہ جنگ نہ ہو رہی ہو، بلکہ پر امن انداز میں اسلام کا کام کیا جا رہا ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بڑا کام ایک شخص نہیں کر سکتا۔ بڑا کام کرنے کے لیے افراد کے درمیان کامل اتحاد ضروری ہے۔ یہ اتحاد خود ایک عظیم عبادت ہے۔ اس عبادت میں کوئی شخص صرف اس وقت پورا اتر سکتا ہے، جب کہ وہ شعوری پختگی کے درجے تک پہنچ چکا ہو۔ وہ ایک معاملے اور دوسرے معاملے کے درمیان فرق کرنا جانتا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues