حکمت کا اصول
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۶
حکمت کا اصول
ایک حدیث رسول کا ترجمہ یہ ہے: عبداللہ ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ کہ عمر بن خطاب نے مدینہ کی مسجد کے دروازے پر دیکھا کہ ایک شخص ریشم کا کپڑا (حلۃ سیراء) بیچ رہا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ اس کو خرید لیں، اور اس کو آپ جمعہ کے دن اور وفود کی آمد کے موقع پر پہنیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جو لوگ اس طرح کا کپڑا پہنیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے کپڑے آئے، آپ نے اس میں سے ایک کپڑا عمر بن خطاب کو دے دیا۔ عمر نے کہا اے خدا کے رسول یہ آپ مجھ کو پہننے کے لیے دے رہے ہیں۔ حالاں کہ اس سے پہلے آپ نے اس طرح کے کپڑے کے بارے میں کہا تھا جو کہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں نے یہ کپڑا اس لیے نہیں دیا ہے کہ تم خود اس کو پہنو۔ تو عمر بن خطاب نے یہ کپڑا اپنے بھائی کو پہننے کے لیے دے دیا، جو اس وقت مکہ میں شرک کے مذہب پر تھا، اس نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا (أخاله بمكة مشركا)۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 886 یہاں یہ سوال ہے کہ ریشم کا ایک کپڑا جو مومن کے لیے پہننا درست نہ تھا، وہ مشرک کو کیوں دے دیا گیا۔ اس کا سبب تالیف قلب تھا۔ یعنی مشرک کے دل کو نرم کرنا۔ چناں چہ کہا جاتا ہے کہ بعد کو وہ مشرک اسلام میں داخل ہو گیا۔ تالیف قلب کا معاملہ حال کے اعتبار سے نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ مستقبل کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔ تالیف قلب کے معاملے میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ شخص آج کیسا ہے، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر اس سے تالیف قلب کا معاملہ کیا جائے تو کل وہ کیسا ہو سکتا ہے۔ تالیف قلب کا اصول مبنی بر مستقبل اصول ہے، نہ کہ مبنی بر حال اصول۔ مزید یہ کہ تالیف قلب کے مقصد کے لیے کسی کو کچھ سامان دیا جائے تو وہ اس کی اپنی پسند کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ دینے والے کی پسند کے مطابق۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو تالیف قلب کا مقصد حاصل نہ ہوگا۔ مثلاً ایک مومن کو خود اپنے لیے سادہ کپڑا پسند ہو سکتا ہے، لیکن جب کسی شخص کو تالیف کے لیے کپڑا دینا ہو تو اس کو اچھا کپڑا دیا جائے گانہ کہ سادہ کپڑا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues