حروفِ مقطّعات
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۷
حروفِ مقطّعات
حروفِ مقطّعات قرآن کی 29 سورتوں کے شروع میں آئے ہیں۔ کسی میں ایک حرف، کسی میں دو حروف، اور کسی میں زیادہ حروف۔ یہ حروفِ مقطّعات پراسرار (mysterious) نہیں ہیں۔ بلکہ وہ نہایت با معنی ہیں۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
حروفِ مقطّعات کا مطلب الگ الگ حروف (disjointed letters) ہیں۔ یہ حروف وہی ہیں جو حروفِ تہجی (alphabets) کے لیٹر ہوتے ہیں۔ ہر زبان کے الفاظ حروفِ تہجی کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ حروفِ مقطّعات کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کسی ملکوتی زبان یا ملأ اعلیٰ کی زبان میں نہیں ہے، بلکہ وہ انسانی زبان میں ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے وہی اسلوب اختیار کیا جائے گا، جو انسانی زبان کو سمجھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ مثلاً قرآن میں آیا ہے : وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ (3:146)۔ یہاں قاتل لفظی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ شدید جدوجہد کے معنی میں ہے۔ یعنی پیغمبر کے ساتھیوں نے دعوت کی پُر امن کوشش میں پوری طاقت صرف کردی۔
یہ اسلوب انسانی زبان میں عام ہے۔ مثلاً ریلیف ورک تیزی سے ہورہا ہو تو اس کو کہا جاتا ہے کہ ریلیف کا کام جنگی پیمانے پر (on a war footing) انجام دیا جارہا ہے، وغیرہ۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں قرآن میں ہیں۔ قرآن کی اس قسم کی آیتوں کو اسی وقت صحیح طور پر سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو زبان کے عام اسلوب کے مطابق سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
حروفِ مقطّعات کا مطلب اشارے کی زبان میں یہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، لیکن وہ انسان کے لیے اترا ہے۔ اس لیے قرآن کا اسلوب وہی ہے جو انسانی کلام کا اسلوب ہوتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان کی گئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ (14:4) یعنی ہر پیغمبر اپنی قوم کی زبان میں بھیجا گیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پیغمبر کے ذریعے آنے والا کلام لوگوں کے لیے ایک پراسرار کلام بن جاتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues