امیج بلڈنگ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۶
سوال و جواب
الرساله مئی 2015 کے صفحہ 37 پر آپ نے تقدیر اور تدبیر کے عنوان سے جو مضمون لکھا ہے، اس میں آپ نے لکھا ہے کہ انسان کی آزادی یا مجبوری کا معاملہ ففٹی ففٹی کا ہے۔ یعنی انسان اپنی ذات کے اعتبار سے آزاد ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسری جو چیز ہے وہ فطرت کا قائم کردہ انفراسٹرکچر ہے، اس انفراسٹرکچر کے بغیر انسان اپنے ارادے کا آزادانہ استعمال نہیں کر سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ انسان انفراسٹرکچر کی رعایت کے ساتھ اپنی آزادی کا استعمال بنا روک ٹوک کرتا رہے گا اور کر سکتا ہے۔ اس میں اللہ کا کوئی active رول نہیں ہے، یعنی انسان کی دنیوی زندگی میں اللہ کی کوئی مداخلت نہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہماری فلاں ضرورت پوری کر دے، ہمیں تندرست کر دے، ہمارے قرضے ادا کروا دے، وغیرہ۔ آپ کے مطابق اس قسم کی دعا کا کوئی مطلب نہیں، کیوں کہ اللہ آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ بس انفراسٹرکچر کی رعایت کے ساتھ جو چاہیں آپ کر سکتے ہیں۔ اللہ کا رول قیامت کے بعد شروع ہوگا۔ کیا آپ کے مضمون کا یہی مطلب ہے۔ (ایڈووکیٹ مرزا ابرار بیگ، بھوپال)
جواب
الرسالہ کے مضمون میں جو بات کہی گئی ہے وہ عموم کے اعتبار سے ہے۔ عموم کے اعتبار سے اس دنیا میں انسان کا معاملہ یہی ہے۔ لیکن دعا کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ دعا اگر اللہ کے نزدیک قابلِ قبول ہو تو اللہ ایسا کرتا ہے کہ وہ مداخلت کر کے انسان کی دعا پوری کر دے۔ یہ بات ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے : لَا يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاءُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2139) یعنی قضا کو لوٹانے والی کوئی چیز نہیں سوادعا کے۔ اس حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی دعا اگر اللہ کے نزدیک قابل قبول دعا ہو تو اللہ ایسا کرتا ہے کہ وہ حالات میں مداخلت کر کے اس کو دعا کرنے والے انسان کے لیے موافق بنادے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues