کلام الہی کی تبلیغ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴
کلام الہی کی تبلیغ
قرآن کی سورہ نمبر 9 میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: ﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ﴾ (التوبۃ: 6) یعنی اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے پناہ مانگے تو تم اس کو پناہ دو، تا کہ وہ اللہ کا کلام سنے، پھر اس کو اس کے امان کی جگہ پہنچادو۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔ قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ محدود طور پر صرف پر مستأمن (asylum seeker) کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عام دعوتی حکم کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم بستی کو ایک ایسی بستی ہونا چاہیے، جہاں کلام اللہ (word of God) کی تبلیغ کا ماحول ہو۔ جہاں کا ہر گھر عملاً ایک دعوتی گھر ہو، جہاں کی ہر مسجد ایک دعوتی مسجد ہو، جہاں کا ہر مدرسہ ایک دعوتی مدرسہ ہو، جہاں کی ہر مجلس ایک دعوتی مجلس ہو۔ جب ایسا ہوگا، اسی وقت یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ وہاں آنے والا کوئی انسان اللہ کی بات کو سنے۔
یہ ایک فطری حقیقت ہے۔ کوئی تجارتی بستی ہو تو وہاں ہر طرف تجارت کی آواز سنائی دے گی۔ یہی معاملہ اہل ایمان کی کسی بستی کا ہے۔ اہل ایمان کی بستی اگر زندہ بستی ہو تو وہ ہر اعتبار سے دعوت حق کی ایک بستی ہوگی۔ اہل ایمان کی بستی کو ایک ایسی بستی ہونا چاہیے، جہاں آنے والا کوئی شخص اپنے آپ حق سے متعارف ہونے لگے۔ جس طرح تجارتی بستی میں ہر طرف تجارت کی آواز گونجتی ہے، اسی طرح اہل ایمان کی بستی وہ ہے جہاں ہر طرف حق کی آواز سنائی دیتی ہو۔
اہل ایمان کی کوئی بستی دعوتی بستی اس وقت ہوسکتی ہے، جب کہ وہاں رہنے والے افراد کے دلوں میں دعوتی ذمہ داری کا احساس موجود ہو۔ اسی کے ساتھ ان کے دلوں میں عام انسان کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پایا جاتا ہو۔ یہ دونوں باتیں اگر موجود ہوں تو اہل ایمان کی بستی اپنے آپ دعوتی بستی بن جائے گی۔ ایسی بستی کا ہر فرد گو یا ایک داعی ہوگا، اور وہاں آنے والا ہر فرد گویا ایک مدعو۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues