آخرت کی تلافی
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۵
آخرت کی تلافی
ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن أبي هريرة، أن رسول صلى الله الله علیہ وسلم، قال: أتدرون ما المفلس؟ قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع، فقال: إن المفلس من أمتي يأتي يوم القيامة بصلاة، وصيام، وزكاة، ويأتي قد شتم هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا، فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يقضي ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه، ثم طرح في النار (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2581) یعنی ابو ہریرہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے۔ لوگوں نے کہا کہ ہم میں مفلس وہ ہے، جس کے پاس نہ درہم ہو، اور نہ کوئی سامان۔ آپ نے کہا کہ بے شک میری امت میں سے مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن آئے نماز کے ساتھ، اور روزے کے ساتھ اور زکاۃ کے ساتھ، مگر اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، اور کسی کا خون بہایا ہوگا، اور کسی کو مارا ہوگا، پس ان میں سے ہر ایک کو اس کی نیکیوں میں سے دیا جائے گا، پھر اگر لوگوں کو ان کا بدلہ دینے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں، تو اُن لوگوں کی خطاؤں میں سے لیا جائے گا، اور ان کو اس کے اوپر ڈال دیا جائے گا، پھر اس کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔
اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایک مسلمان بظاہر عبادت گزار ہو، مگر اسی کے ساتھ وہ اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہو۔ بظاہر عبادت گزاری کے باوجود، وہ بدزبانی کرے، لوگوں کے اوپر جھوٹا الزام لگائے، وہ ناحق کسی کا مال غصب کرلے، اس نے کسی کو قتل کیا ہو، اس نے کسی کو مارا ہو تو قیامت میں اس کی نیکیوں کو لے کر انھیں دے دیا جائے گا، جن کے اوپر اس نے دنیا میں ظلم کیا تھا۔ اور اگر یہ کافی نہ ہو تو مظلوموں کے گناہوں کو لے کر اس کے اوپر ڈال دیا جائے گا، اور پھر اس کو جہنم میں داخل کر دیا جائے گا۔ یہ حدیث اتنی سخت ہے کہ اس کو سن کر آدمی کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues