Al-Risala · November 2015 · page 7

خطبہ حجۃ الوداع

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۷

خطبہ حجۃ الوداع

حجۃ الوداع کا خطبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری اہم ترین تقریر ہے۔ یہ وہ خطبہ ہے جو آپ نے ۹ ذی الحجہ ۱۰ھ کو عرفات کے میدان میں دیا تھا۔ حجۃ الوداع گویا زمانہ نبوت کا سب سے بڑا اسلامی اجتماع تھا۔ اس موقع پر تقریبا سوا لاکھ اصحاب رسول جمع تھے۔ اس وقت اپنی وفات سے تقریباً دو ماہ قبل آپ نے یہ خطبہ دیا۔ اس میں آپ نے ان تمام باتوں کا آخری اعلان فرمایا جس کے لیے آپ مبعوث کئے گئے تھے۔

حدیث کی کتابوں میں حجۃ الوداع کا نہایت تفصیلی تذکرہ ہے۔ مگر خطبہ حجۃ الوداع کسی روایت میں ایک کامل متن کی صورت میں مذکور نہیں۔ مختلف روایتوں میں اس کے متفرق اجزاء ملتے ہیں۔ متعدد اہل علم نے ان اجزاء کو جوڑ کر ایک مجموعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ خطبہ ایک لفظ میں خدا کی عظمت اور انسان کی مساوات کا اعلان تھا۔ آپ نے بتایا کہ انسانوں کے درمیان صحیح تقسیم صرف ایک ہے اور وہ خدا پرست ہونے اور خدا پرست نہ ہونے کی ہے۔ اس کے سوا دوسری تمام تقسیمات مصنوعی ہیں۔ آپ نے انہیں باطل ٹھہرایا اور امت کو ذمہ دار بنایا کہ وہ ہمیشہ اس کا اعلان کرتی رہے۔ اس اعلان کا ایک عملی اظہار یہ تھا کہ جس وقت سوا لاکھ انسانوں کے درمیان آپ نے عظمت خداوندی اور مساوات انسانی کا یہ خطبہ دیا اس وقت آپ کے سب سے زیادہ قریب دو آزاد شدہ غلام تھے۔ ایک بلال حبشی جو آپ کی سواری کی مہار پکڑے ہوئے تھے۔ اور دوسرے اسامہ بن زید جو آپ کے سر پر کپڑے کا سایہ کئے ہوئے تھے۔ یہاں اس اہم خطبے کا ترجمہ نقل کیا جا رہا ہے: ترجمہ بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال تمہارے اوپر حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں حرام ہے۔ سن لو کہ جاہلیت کے معاملے کی ہر چیز میرے قدموں کے نیچے ہے اور جاہلیت کے تمام خون باطل کر دئے گئے اور سب سے پہلا خون جو میں باطل

‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues

Printed page