کریڈٹ لینے کا مزاج
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۶
کریڈٹ لینے کا مزاج
احساسِ برتری (superiority complex) کا ایک ظاہر وہ ہے کہ آدمی ایسے عمل کا احساس برتری (superiority complex) کا ایک ظاہرہ یہ ہے کہ ادبی ایسے مل کا کریڈٹ لینا چاہتا ہے جس کو اس نے کیا نہیں۔ اس کردار کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا (3:188)۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ فارسی شاعر فردوسی (وفات: 1025) نے اپنی مشہور نظم شاہنامہ میں ایرانی پہلوان رستم کا ذکر کیا ہے۔ رستم اپنی قابلیت سے ایک مشہور پہلوان بنا تھا۔ لیکن فردوسی نے شاہنامہ میں اس کی بابت یہ شعر لکھا ہے کہ میں نے اس کو رستم پہلوان بنایا ہے، ورنہ وہ اکھاڑے کا ایک معمولی آدمی تھا: منش کردهام رستم پہلواں وگرنہ یلے بود در سیستاں قوم مزاج کراعتبار سردریک مراحل رُتو ہندستان کہ مسئلہ اِس طرح کا ہے ضحح مشاہیر قومی مزاج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ہندوستان کے مسلمان اس کی ایک واضح مثال ہیں۔ آزادی (1947) کے بعد یہاں کے مسلم قائدین نے مسلمانوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ ہمارا ووٹ اس ملک میں بیلنسنگ (balancing) ووٹ ہے۔ ہم اس ملک میں بادشاہ گر (kingmaker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم جس کو چاہیں جتا ئیں اور جس کو چاہیں ہرائیں۔ اس اس مزاج کا مظاہرہ بڑے پیمانے پر مئی 2014 کے جنرل الیکشن میں ہوا۔ اس موقعے پر ہندوستان کے مسلمانوں نے متفقہ طور پر یہ کوشش کی کہ الیکشن میں بی جے پی کو ہرائیں۔ مگر نتیجہ الٹا برآمد ہوا۔ بی جے پی کو اتنی بڑی کامیابی ہوئی کہ مسلمانوں کے نزدیک سب سے زیادہ معتوب آدمی ملک کا پرائم منسٹر بن گیا۔ فرضی کریڈٹ لینے کا مزاج دوسروں کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا لیکن جن لوگوں کے اندر یہ مزاج ہو، ان کو ضرور اس کا نقصان پہنچتا ہے۔ اس صفت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کے اندر غیر حقیقت پسندانہ مزاج بنتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو زیادہ سمجھنے لگتا ہے، اور دوسروں کو کم۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے انسان کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا اس کا یہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اندر اس کا عمل رک جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues