خطبہ حجۃ الوداع
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۹
نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تمہارے اوپر کوئی ظلم کیا جائے۔ سنو، زمانہ گھوم گیا (پس وہ آج) اسی نقطہ پر ہے جس دن کہ خدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : خدا کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں، خدا کی کتاب میں، جس دن کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار مہینے محترم ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، پس تم ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ سنو، میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ سنو، شیطان اس سے مایوس ہو چکا ہے کہ نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں، لیکن آپس میں تم کو بر انگیختہ کرکے وہ اپنا مقصد حاصل کرے گا۔ اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ کیونکہ وہ تمہاری دست نگر ہیں۔ وہ اپنے لیے کچھ نہیں کر سکتیں اور تمہارے اوپر ان کا حق ہے اور ان کے اوپر تمہارا حق ہے، یہ کہ تمہارے بستر پر وہ تمہارے سوا کسی اور کو نہ آنے دیں اور نہ ایسے شخص کو تمہارے گھر میں آنے دیں جس کو تم نا پسند کرتے ہو۔ پھر اگر تم ان سے نافرمانی کا اندیشہ محسوس کرو تو ان کو نصیحت کرو۔ اور ان کو خواب گاہوں میں چھوڑ دو۔ اور ان کو ہلکی مار مارو۔ اور انہیں معروف طریقے پر کھانے اور کپڑے کا حق ہے۔ تم نے ان کو خدا کی امانت کے طور پر لیا ہے۔ اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ سے حلال کیا ہے۔ سنو، جس کے پاس کوئی امانت ہو تو وہ اس کو صاحب امانت کو واپس کر دے۔ اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فرمایا۔ کیا میں نے پہونچا دیا، کیا میں نے پہونچا دیا۔ پھر آپ نے کہا جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو پہونچا دے کیونکہ بہت سے وہ لوگ جنہیں پہونچایا جائے وہ سننے والوں سے زیادہ خوش بخت ہوتے ہیں ۔ (مسند احمد) تشریح اس پورے خطبہ کا خلاصہ اس کے اس لفظ میں ہے: الا لا تظلموا ۔ الا لا تظلموا ۔ (خبردار ظلم نہ کرنا۔ خبردار ظلم نہ کرنا) اس خطبہ کا مقصد ظلم کے ہر دروازہ کو بند کرنا ہے خواہ وہ جھوٹے تو ہمات کی وجہ سے پیدا ہوا ہو یا غلط قوانین کی وجہ سے یا غرور اور سرکشی کی وجہ سے۔ اس مقصد کے لیے اعلان کر دیا گیا کہ اصولی طور پر ہر آدمی کا خون، اس کا مال اور اس کی آبرو دوسرے کے لیے حرام ہے، الا یہ کہ اللہ کے واضح قانون کی بنا پر اس کا جواز ثابت ہوتا ہو۔ جاہلی روایات اور انتقامی جذبات کے تحت ایک
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues