خطبہ حجۃ الوداع
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۰
دوسرے کے خلاف جو کارروائیاں کی جاتی ہیں وہ مطلق طور پر ممنوع قرار دیدی گئیں۔ سودی لین دین کو بالکل حرام قرار دے دیا گیا جو کہ سماج کے مختلف طبقات کے درمیان معاشی ظلم پیدا کرتا ہے۔ نیز دوسرے بالواسطہ طریقوں سے سماجی انصاف میں زبردست رکاوٹ ہے۔ عورتوں کے حقوق کو واضح طور پر متعین کر دیا گیا۔ اور مردوں کو اس سے روک دیا گیا کہ وہ عورت کو کمزور پا کر انھیں اپنی زیادتی کا نشانہ بنائیں۔
انسانوں کے درمیان باہمی معاملات کے لیے خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کو آخری معیار قرار دے دیا گیا۔ لوگوں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنا ہر جھگڑا قرآن وسنت کے احکام کے ماتحت طے کریں، خواہ قرآن وسنت کا فیصلہ ان کی مرضی کے موافق ہو یا ان کی مرضی کے خلاف۔ مسلمانوں کو ان کی گمراہی کے واحد سب سے بڑے سبب سے روکا گیا، اور وہ آپس کی نزاع ہے۔ خدا نے آخری دین کو اتنا محفوظ اور مستحکم کر دیا ہے کہ اب دین میں بگاڑ کے لیے شیطان کوئی راستہ نہیں پا سکتا۔ البتہ مختلف قسم کے جھوٹے نزاع کھڑے کرکے وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑائے گا۔ مسلمان اگر اس فتنہ سے بچ گئے تو پھر کوئی دوسری چیز انھیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر امانت کی ادائیگی کا احساس پیدا ہو۔ خدا کے دین کو دوسروں تک پہونچانا بھی ادائیگی امانت ہے۔ لوگوں کے اموال کو انھیں لوٹانا بھی ادائیگی امانت ہے۔ اہل شخص کی اہلیت کا اعتراف کرکے اس کے لیے جگہ خالی کر دینا بھی ادائیگی امانت ہے۔ اور مسلمان کو پابند کیا گیا ہے کہ امانت کی ادائیگی کے ہر معاملہ میں وہ پوری طرح امین اور ذمہ دار ثابت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خطبہ گو یا ایک زندہ پکار ہے۔ وہی حاجی حقیقی معنوں میں حاجی ہے جو حج کے دوران اس پکار کو سنے اور وہاں سے اس حال میں لوٹے کہ یہ خطبہ اس کی پوری زندگی کا لائحہ عمل بن گیا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues